The news is by your side.

Advertisement

سال 2016 پی آئی اے کیلیے مزید خسارے اورمشکلات کا باعث رہا

کراچی : پی آئی اے انتظامیہ کی بدنظمی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے مالیاتی خسارے کی اڑان آسمان کی جانب ہے، سال 2016 بھی ایئرلائن کیلئے بدترین خسارے کے ساتھ ساتھ طیارے حادثے کے بعد مزید مشکلات کا شکار رہا، مجموعی خسارہ 350 ارب روپے سے زائد تجاوز کرگیا۔

تفصیلات کے مطابق فضاؤں کا سینہ چیرتے ہوئے پی آئی اے کے جہاز کبھی پاکستانیوں کے مکمل اعتماد اور دنیا بھر میں پاکستانی وقار کی علامت سمجھے جاتے تھے ، مگر شاہانہ اڑان کو انتظامیہ کی بدنظمی اور ناقص حکمت عملی لے ڈوبی، سال 2016 بھی پی آئی اے کیلئے کچھ اچھا ثابت نہ ہوا۔

سال 2016 کے دوسرے مہینے میں بھی ملازمین احتجاج پر چلے گئے اور ملازمین کا احتجاج دس دن تک جاری رہااحتجاج کے دوران پی آئی اے کے پولیس اور رینجرز کی جانب سے مظاہرین کو ایئرپورٹ کی جانب روکنے سے لاٹھی چارج آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

اسی دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پی آئی اے کے دو انجینئرجاں بحق ہوگئے جس پر ملازمین مشتعل ہوگئے اور فضائی آپریشن مکمل طور پر بند کردیا اور ہڑتال کی وجہ سے فضائی آپریشن چار دن تک مکمل طور پربند رہا جس کے باعث ادارے کو آٹھ دن کے دوران 4ارب روپے کا نقصان ہوا۔

انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کے باعث مالیاتی خسارے کی اڑان آسمان کی جانب رہی۔پی آئی اے نے  14 اگست سے اسلام آباد سے لندن کیلئے پریمیرسروس کا آغاز کیا لیکن اس نے بھی پی آئی اے کو بری طرح نقصان پہنچایا،چار ماہ کے دوران پی آئی اے نے جہاز کے کرائے کی مد میں کروڑوں روپے ادا کئے جبکہ پریمیئر سروس نے بھی 4 ارب روپے کا نقصان کیا۔

ابھی پی آئی اے خسارے سے سنبھلی نہ تھی کہ 7دسمبر کو چترال سے اسلام آباد آنیوالے پی آئی اے کا طیارہ پرواز پی کے 661 حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا جس میں 47 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔

طیارے حادثے کے بعد ہی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کے 10 اے ٹی آر طیاروں کو شیک ڈاؤن کیلئے گراونڈ کردیا طیارے گراونڈ ہونے کی وجہ سے ادارے کو یومیہ کروڑوں روپے نقصان کا سامنا رہا۔

انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے قومی ایئرلائن کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں بھی کمی آنا شروع ہوگئی، جس کی وجہ سے قومی ایئرلائن کو مزید خسارے سے دوچار ہونا پڑرہا ہے ۔

پی آئی اے میں گذشتہ چند برسوں کے دوران انتظامیہ تبدیلی کے باعث ہر آنے والے سربراہ نے بلند باگ دعوے کیے اب تو سال بیت گیا مگر بات اب بھی جوں کی توں ہے اس کے مستقبل کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں