لاس اینجلس: فلمی دنیا کے سب سے معتبر اور بڑے ایوارڈز ‘آسکرز’ کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف کیٹیگریز میں بہترین فنکاروں اور فلموں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
ہالی وڈ کے معتبر ترین 98ویں اکیڈمی ایوارڈز کی رنگا رنگ تقریب ڈولبی تھیٹر میں منعقد ہوئی، جہاں جذباتی تقاریر اور مزاحیہ جملوں نے شرکاء کے دل جیت لیے۔
اس سال ‘ون بیٹل آفٹر انادر’ بہترین فلم کا ایوارڈ لے اڑی، جیسی بکلی بہترین اداکارہ، مائیکل بی جورڈن بہترین اداکار قرار پائے جبکہ اوریجنل سونگ کا ایوارڈ میوزک بینڈ ہنٹرایکس کے گانے گولڈن کو دیا گیا۔
ایوارڈز کے پس منظر میں دلچسپ واقعات دیکھنے کو ملے، جہاں فلم ‘فرینکنسٹائن’ کے پروڈکشن ڈیزائنر ایک ہاتھ میں آسکر ٹرافی اور دوسرے میں مشروب تھامے میڈیا سے گفتگو کرتے نظر آئے۔
جبکہ دستاویزی فلم ‘مسٹر نو بڈی اگینسٹ پیوٹن’ کے فلم ساز پاشا تالنکن اپنی جیت کی خوشی میں اس لفافے کو بار بار پڑھتے رہے جس میں ان کی کامیابی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس بار ایک تاریخی موقع تب آیا جب ‘بیسٹ شارٹ ایکشن فلم’ کے زمرے میں مقابلہ برابر رہا اور ایک کے بجائے دو ایوارڈز دیے گئے۔
ایران میں امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے پیشِ نظر اس سال سیکیورٹی کے غیر معمولی اور سخت ترین انتظامات دیکھے گئے۔ لاس اینجلس حکام نے ڈولبی تھیٹر کے گرد و نواح میں سیکیورٹی کی متعدد تہیں بچھائیں، ٹریفک کے متبادل منصوبے بنائے اور ہالی وڈ بلیوارڈ کی گلیوں میں باڑ لگا کر بھاری پولیس نفری اور گاڑیاں تعینات کیں۔
میڈیا کے نمائندوں کو تقریب کی کوریج کے لیے دوہرے میٹل ڈیٹیکٹرز اور پولیس کے سراغ رساں کتوں کے ذریعے تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا۔ سیکیورٹی اس قدر سخت تھی کہ ہر 100 فٹ کے فاصلے پر اہلکار تعینات تھے۔
ریڈ کارپیٹ کی تیاریوں کے لیے گزشتہ ایک ہفتے سے سڑکیں بند تھیں، جبکہ مقامی دکانوں اور کھانے پینے کے مراکز کو بڑے پردوں سے چھپا کر پورے علاقے کو ایک فلمی سیٹ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ڈولبی تھیٹر کے داخلی راستے پر ان تمام فلموں کے نام درج کیے گئے تھے جنہوں نے ماضی میں ‘بہترین فلم’ کا آسکر جیتا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


