امریکا میں 20 کروڑ انڈے صارفین سے واپس مانگ لیےگئے -
The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں 20 کروڑ انڈے صارفین سے واپس مانگ لیےگئے

امریکا کے ایک فارم سے متعدد ریاستوں میں بھیجے جانے والے کروڑوں انڈے وائرس سے متاثرہ ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر واپس منگوا لیے گئے‘ انڈوں میں خطرناک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

تفصیلات کےمطابق امریکی ریاست نارتھ کیرولینا کے ایک فارم سے متعدد ریاستوں میں جانے والے بیس کروڑ انڈے سیلمونیلا نامی وائرس سے متاثر ہونے کے خدشے کے تحت فوڈ این ڈرگ انتظامیہ کے حکم پر واپس منگوائے گئے ہیں اور ان کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔

وفاقی فوڈ اینڈ ڈرگ انتظامیہ کے مطابق نارتھ کیرولینا کے وائرس سے متاثرہ فارم کے انڈے کل نو ریاستوں کے گروسری اسٹورز اور ریستورانوں کو بیچے گئے تھے جن میں کولاراڈو، فلوریڈا، نیو جرسی، نیویارک، نارتھ کیرولینا، پنسلیوانیا، ساؤ تھ کیرولینا، ورجینیا اور ویسٹ ورجینیا شامل ہیں۔ یہ انڈے مختلف برانڈ اسٹورز اور ویفل فوڈ ریسٹورینٹ کو فروخت کیے گئے تھے اور ان کے استعمال سے مجموعی طور پر 22 افراد کے سیلمونیلا نامی وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ یہ انڈے شمالی کیرولینا کی ہائیڈ کاؤنٹی کے انڈیانا بیسڈ روز ایکڑ فارم سے مارکیٹ میں آئے تھے اور انفیکشن کی شکایت کے بعد ایف ڈی اے نے فارم کا جائزہ لیا‘ جہاں وائرس کا انکشاف ہوا۔ تشخیص ہونے کے بعد کمپنی نے رضاکارانہ طور پر فارم سے بھیجے گئے 20 کروڑ سے زائد انڈے واپس منگوائے۔

خیال رہے کہ یہ وائرس اسہال اور متلی کا سبب بنتا ہے اور اگر مرض کی درست وقت پر تشخیص نہ ہو تو اس میں مبتلا افراد موت کے منہ میں بھی جاسکتے ہیں۔ سی ڈی سی کے مطابق اس وائرس کے سبب ہر سال امریکا میں 12 لاکھ افراد بیمار ہوتے ہیں، 23 ہزار سے زائد کو اسپتال میں داخل کرانا پڑتا ہے اور 450 کے قریب افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ان بیمار ہونے والے میں 10 لاکھ افراد صرف غذا میں وائرس ہونے کے سبب بیمار ہوتے ہیں۔

ایف ڈی اے نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اپنی گروسری میں خریدے گئے انڈے چیک کریں اور اگر وہ مذکورہ فارم کے ہیں تو جہاں سے انہوں نے وہ انڈے خرید ے ہیں وہیں واپس کرکے اپنی پوری رقم واپس لے لیں ‘ لیکن کسی بھی صورت متاثرہ انڈے استعمال نہ کریں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں