The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

فاریہ کی انگلیاں کٹھا کھٹ لیپ ٹاپ پر بزی تھیں اور شرارتی چہرے کا اتار چڑھاؤ گواہ تھا کہ محترمہ کوئی کارنامہ سرانجام دینےمیں مصروف ہیں ۔۔۔ منتہی ٰنے ایک آدھ بار گھور کر اسے دیکھا پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئی ۔۔۔
“یاہووووو۔۔ کا نعرہ لگاتے ہوئے فاریہ نے اپنا لیپ ٹاپ بیڈ پر پھینکا اور دوسرےبیڈ پر چھلانگ لگائی ۔۔۔
اس بلائے ناگہانی پر منتہیٰ کے ہاتھ سے کپ گرتے گرتے بچا ۔۔ اور کافی اس کے کپڑوں پر چھلکی ۔۔
“فاریہ تم انسان کب بنو گی ؟؟ “۔۔منتہیٰ اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے گرجی
“پتا نہیں ۔۔۔ فاریہ نے اسی کے سٹائل میں نقل اتاری۔”
“تو پتا کرو جا کے”۔۔۔ منتہیٰ نے اسے بیڈ سے دکھا دیا
“تم بھی کمال کرتی ہو لڑکی ۔۔ کیا اپنے بیڈ پر جا کر مجھے پتا لگ جائے گا کہ میں انسان کب بنو گی” ۔۔ فاریہ نے دانت نکالے
“ہاں گوگل کرلو “۔۔ مینا نے جواباٌ اسے آنکھیں دکھائیں
اُف۔۔ تم نے مجھے بھلا ہی دیا ۔۔ میں اتنے مزے کی بات بتانے لگی تھی
“لزانیہ یا لوبسٹر “۔۔؟ جھٹ سوال آیا
“اُف۔۔ کھانے کی بات نہیں کر رہی ۔۔ پتا ہے ارمان بھائی نے مجھے اور اَرحم تنویر کو سیو دی ارتھ کی سوشل میڈیا کمپین کا ہیڈ بنایاہے “۔۔۔فاریہ خوشی سے چہکی


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


“واٹ”۔۔ منتہیٰ چونکی
“واؤ ۔۔یار کتنا مزا آئے گا نہ”۔۔ ہمیشہ کی طرح فاریہ اوور ایکسائیٹڈ تھی
“کسی والنٹیر موومنٹ کی سوشل میڈیا کمپین ایک بڑی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے “۔۔تمہیں یقین ہے کہ تم یہ نبھا سکو گی ۔؟؟منتہیٰ ‘ فاریہ کی لا اُبالی طبیعت سے واقف تھی ۔۔
“ہاں میں اب اتنی بھی نکمی نہیں ہوں “۔۔ فاریہ نے منہ بسورا
“تم بالکل نکمی نہیں ہو میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری ساری پاور یوتھ ہوگی ‘ جسے ایک پلیٹ فارم پر لانے کا بہترینذریعہ سوشل میڈیا ہے ۔۔ ہمیں نئے آ ئیڈیاز اور ریفارمز متعارف کروانا ہوں گے ۔۔”
“وہ تو ہے ۔۔ ابھی تو آ غاز ہے یقیناٌ ہم سب مل کر بہت کچھ کریں گے ۔۔ نئے لوگ آئیں گے تو نئے آئیڈیاز بھی آتے رہیں گے ۔”
“اوکے بیسٹ آف لک “۔۔ منتہیٰ نے خلافِ عادت مسکرا کر اسے سراہا ۔۔
“تھینک یو ۔۔”
“ہاں یاد آیا ، ارمان بھائی کہہ رہے تھے کے ہر ویک اینڈ پر میٹنگ ہوا کرے گی۔۔ جس میں سب کو شریک ہونا ہوگا ”
“آئی نو دیٹ” ۔۔ ویسے یہ مسٹر ارمان تمہارے بھائی کب سے ہوئے ؟؟
“لو اتنے ڈیسنٹ اور گریس فل سے تو ہیں ۔۔ مجھے اتنا اچھا لگا ان کو بھائی کہنا “۔۔ فاریہ نے اسے گھورا
“تمہاری ڈکشنری میں ڈیسنٹ اور گریس فل کی تعریف کافی مشکوک لگتی ہے “۔۔ مینا نے منہ بنایا
“میری ڈکشنری بالکل ٹھیک ٹھاک ہے تم اپنی آ نکھیں ٹیسٹ کرواؤ ۔۔ ہونہہ۔۔ فاریہ نے اسے کھینچ کر تکیہ مارا جو بیڈ کے سائڈپر جا کر گرا ۔۔ منتہیٰ آج اسے چڑانے کے موڈ میں تھی ۔۔سو اس نے جھٹ تکیہ اٹھا کر اپنے لیپ ٹاپ کے نیچے رکھا ۔۔۔
“سو سویٹ آف یو ۔ ۔ ساتھ ہی دلکش مسکراہٹ کے پھول بکھیرے ۔۔”
فاریہ کو الجھتا دیکھ کر اسے مزا آرہا تھا ۔
***********
“تم ایک انتہائی ڈفر اور کمینی لڑکی ہو “۔۔فاریہ نے اُسے گھورتے ہوئے اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا۔۔” ابھی اُسے سیو دی ارتھ کے فیس بک پیج کے لئے بہت سا کام کرنا تھا ۔۔۔”
اپنے ننھے سے دماغ پر زور ڈالتے ، کچھ مدد ارحم تنویر سے لیتے ہوئے اس نے سیو دی ارتھ فیس بک پیج پر پہلی پوسٹ کی۔
چلے تھے یار کے مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
سیو دی ارتھ ‘ کا آ غاز انہوں نے کسی فورس کی طرح ونگ بنا کے کیا تھا ۔
ارمان یوسف کے پاس غازی ونگ کی کمانڈ تھی جس میں شامل کارکنان کو ہر اول دستے میں رہتے ہوئے میدانِ جنگ میں لڑنا تھا ۔
یعنی سیلاب ، زلزلہ ، طوفان یا کسی بھی طرح کی ناگہانی آفت کی صورت میں بر وقت لوگوں کا انخلا اور بعد کی آباد کاری میں بھر پور معاونت۔
منتہیٰ دستگیر کے پاس برین ونگ کی کمانڈ تھی جس کا کام ریسرچ اینڈ آئیڈیاز ڈیویلپ کرنا تھا تاکہ نئی ریفارمز تیزی کے ساتھ متعارف کروائی جا سکیں۔
ریموٹ سینسنگ اور جی آئی ایس ونگ کی کمانڈ شہریار جہانگیر اور لمس کے چند بہترین انجینئرزکے پاس تھی ۔ جن کا کام سسٹم کوپوری طرح ایکٹو اور اپ ڈیٹ رکھنا تھا ۔
سوشل میڈیاونگ کی کمانڈ فاریہ انعام ، ارحم تنویر اور پنجاب یونیورسٹی کے کچھ سٹوڈنٹس کو سونپ گئی تھی تاکہ مناسب اور تیزرفتار کمپین کے ذریعے زیادہ سے زیادہ کارکنان کی شمولیت ممکن بنائی جا سکے ۔
اُن کا سب سے بڑا مسئلہ فنڈز تھے ۔۔ فی الحال سپارکو کے آ فیسرز بھی کچھ انویسٹ کرنے پر آمادہ نہ تھے ۔۔ اپنے طور پر تھوڑی تھوڑی رقم ڈال کر انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں ایک انیکسی کرائے پر لیکر اپنا آفس بنایا تھا ، اور پہلی ویکلی میٹنگ میں وہ سب سر جوڑے بیٹھے تھے۔
“تم لوگ اپنی پراگریس بتاؤ۔؟ “۔۔ارمان نے کھسر پھسر کرتے فاریہ اور ارحم کو مخاطب کیا ۔
باس۔ ہم نے اپنا کام تندہی سے شروع کر دیا ہے، نا صرف سیو دی ارتھ کا فیس بک پیج ایکٹو ہو چکا ہے، بلکہ ٹویٹر اکاؤنٹ
بھی”۔۔ ارحم نے مودبانہ جواب دیا کیونکہ منتہیٰ اس کے بالکل سامنے والی سیٹ پر تھی۔
ہونہہ ! ہماری سوشل میڈیا کمپین جتنی مؤثر ہوگی اتنی ہی تیزی سے یوتھ ہمیں جوائن کرے گی۔ آپ کیا کہتی ہیں مس دستگیر ۔؟ ۔۔اس حوالے سے اگر کوئی نیا آئیڈیا آپ کے ذہن میں ہو۔
“جی بالکل۔ ہمارا اگلا ہدف سیو دی ارتھ کی آفیشل ویب سائٹ ہونا چاہیئے، جو میرے خیال میں ریموٹ سینسنگ ونگ زیادہ اچھےطریقے سے سرانجام دے گا، اور ویب سائٹ کا پیٹرن ہماری کمپین کی طرح بالکل یونیک ہونا چاہیئے۔ منتہیٰ کا جواب ہمیشہ تیار ہوتاتھا “۔ ارمان نے نوٹ کیا ۔
“لڑکی خشک مزاج تو تھی مگر جس لیول کی اس کی ذہانت تھی اس پر فاریہ جیسا چلبلا پن سوٹ بھی نہیں کرتا تھا۔”
اسی وقت سب سے معذرت کرتا ہوا صمید اندر داخل ہوا ۔
“یار۔ پاپا کی وجہ سے کچھ لیٹ ہوگیا ، امید ہے کہ آپ لوگ مائنڈ نہیں کریں گے”۔ اس نے نظر اٹھا کر لیڈیز کو دیکھا ۔
“اٹس اوکے!یہ بتاؤ کہ کیا رہا ۔؟؟ “۔۔ارمان نے بے چینی سے پوچھا
رات ہی اس کی صمید سے چیریٹی کے لیے بات ہوئی تھی ، اس کے ارب پتی ماموں کے لیے سیو دی ارتھ کے نام تھوڑی رقم ڈونیٹ کرنا کچھ مشکل نہ تھا ۔
صمید نے کوئی جواب دیئے بغیر جیب سے ایک چیک نکال کر ارمان کی طرف بڑھایا ۔
“دس لاکھ! یہ انہیں چیریٹی میں ملنے والی پہلی بڑی رقم تھی ۔سو ارمان نے ممنون نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ چیک صمید کی طرف واپس بڑھا دیا ۔۔ فنانشل ونگ کمانڈ تمہارے نام ہوئی۔
منتہیٰ سمیت سب نے زوردار تالیاں بجا کر صمید کو چئیراپ کیا تھا ۔
ایک ماہ میں وہ مختلف ذرائع سے بیس لاکھ کی رقم اکھٹی کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔۔ رزلٹ کچھ اتنا برا بھی نہ تھا ۔ سو آگے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ۔۔”اب انہیں بھر پور ریسرچ ، مکمل اعداو شمار اور تیاریوں کے ساتھ بالا کوٹ ، دیر، سوات اور اُن سے ملحقہ علاقوں میں جا کر کمپٔین چلا کر ڈیزاسٹر ٹریننگ سینٹر بنا کر مقامی افراد کی ٹریننگ شروع کرنا تھی ۔”
جس کے لیے انہیں بڑی تعداد میں کارکنان کی ضرورت تھی ، اس مسئلے کا حل نکالتے ہوئے منتہیٰ سمیت برین ونگ کے کمانڈرزمختلف کالجز اور یو نیورسٹیز میں سیمینارز اور ورکشاپس کے انعقاد کے لیے بھی پوری طرح سرگرمِ عمل تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اپنی کمپین میں شامل کیا جائے۔
جس کے لیے سوشل میڈیا ونگ کو پوری طرح فعال رکھا گیا تھا ۔۔کیونکہ آج کی یوتھ کا نصف سے زائد دن یہیں گزرتا ہے ۔۔
“مگر اِن شب و روز کی کاوشوں کے ساتھ وہ اپنی تعلیم کو اب بھی اولیت دیتے تھے۔”
“زندگی یک دم بہت مصروف ہو گئی تھی۔ مگر اصل مزا تو یونہی جینے میں تھا ۔ ان کے دل مطمئن اور پرسکون تھے اور عزائم بہت بلند ۔”
منتہیٰ کو ہاسٹل سے کمپین کی سرگرمیاں جاری رکھنے میں کچھ دشواری تو تھی مگر اسے ابو کی پوری سپورٹ حاصل تھی۔ وہ اپنی بیٹیوں کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ایک عرصے سے پلاننگ میں لگے ہوئے تھے۔
***********
ملک غلام فاروق دستگیر نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ گورنمنٹ کی طرف سے ملے ہوئے گھر میں کاٹا تھا ۔۔ لیکن اچھے وقتوں میں انہوں نے لاہور کے فیصل ٹاؤن ایریا میں ایک ۱۲۰گز کے پلاٹ کی زمین خرید لی تھی ۔منتہیٰ کولاہور چھوڑتے وقت انہوں نے وہاں گھر کی تعمیر کا آغاز کیا تھا ۔ جو اب تکمیل کے مراحل میں تھا ۔ اُن کا ارادہ تھا کہ ارسہ کے بی ایس سےفارغ ہوتے ہی وہ فیملی کو لاہور منتقل کر دیں گے۔ ان کی اپنی ریٹائر منٹ میں ابھی چھ ماہ باقی تھے ۔
گھر کی تکمیل ہوتے ہی منتہیٰ اور رامین نے ہاسٹل کو خیر باد کہنے میں دیر نہیں لگائی ۔ تینوں بہنوں نے مل کر نئے گھر کی سیٹنگ کی۔
اگرچہ منتہیٰ کو اِس طرح کے کاموں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ پھر بھی باپ کی غیر موجودگی میں اب وہی گھر کی بڑی تھی ۔
“زندگی کی تھکا دینے والی مصروفیات میں بہت عرصے بعد کچھ سکون کے لمحے ماں، دادی اور پیاری بہنوں کے ساتھ گزارنےکا موقع ملا تھا ، ورنہ سمسٹر کی چھٹیاں بھی ایس ای ٹی کے لیے ریسرچ میں پلک جھپکتے میں گزر جاتی تھیں۔”
ویک اینڈ پر وہ تینوں ایک ساتھ ایس ٹی ای کی ہفتہ وار میٹنگ میں شریک ہوئی ۔ اُس کی توقع کے بر خلاف ارسہ نے جی آئی ایس اور رامین نے غازی ونگ جوائن کی تھی ۔
***********
ارمان اپنے تیس ساتھیوں کے ساتھ گزشتہ ایک ماہ سے دیر ، کالام کے بعد اب سوات میں زبردست اویئرنیس کمپین چلا رہا تھا ۔ زلزلے سے باعث ان علاقوں کا تباہ شدہ انفرا سٹرکچر اب تک پوری طرح بحال نہیں ہوپایا تھا ۔
اس کی غیر موجودگی میں ویکلی میٹنگز کو کبھی ڈاکٹر عبدالحق ، کبھی منتہیٰ اور کبھی شہریار ہیڈ کیا کرتے تھے ۔ وہ سب ارمان کی دی ہوئی معلومات پر آگے کی سٹرٹیجی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ۔۔ “پچھلے ہفتے کی میٹنگ میں جی آئی ایس ونگ کو کچھ نئے ٹاسک دیئےگئے تھے ، جس کی رپورٹ اس روز شہریار نے انہیں دینی تھی ، کہ گذشتہ شب سے پشاور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں طوفانی بارشوں کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔”
“اور لگاتا رتین چار روز کی شدید بارش کے نتیجے میں آنے والے زبردست سیلاب سے پہلے پہل خیبر پختونخواہ ڈوبا اور پھر یہ شدید سیلابی ریلے آ گے بڑھتے ہوئے چند ہی روز میں پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کے ایک وسیع رقبے کو ڈبوتے چلے گئے ۔۔”
ارمان اور اُس کے ساتھی سیلاب میں بری طرح پھنس چکے تھے ۔۔۔ دو دن بعد ان کا لاہور میں ساتھیوں سے رابطہ بحال ہوا ۔ ۔
“اُن کو سیلاب میں گھرے ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے مزید فورس درکار تھی ۔۔”
“یہ پہلا موقع تھا جب’’ سیو دی ارتھ‘‘ کے کارکنا ن نے پاک آرمی کے جوانوں کے شانہ بشانہ سیلاب میں گھرے ہوئے لوگوں کونکالنے، محفوظ مقامات تک پہنچانے اور اشیائے خوردو نوشت کا انتظام کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ”
مختلف ٹی وی چینلز پر سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھنے کے بعد ایس ٹی ای کے تمام کمانڈرز ایک دفعہ پھر میٹنگ روم میں موجود تھے۔۔جس کی سربراہی ڈاکٹر عبدالحق کر رہے تھے۔
“جو ہونا تھا ہو چکا ۔۔ ہم یقیناٌ ہونی کو نہیں روک سکتے ۔ مگرمجھے خوشی ہے کہ ارمان یوسف اور باقی کارکنان اِس کڑے وقت میں عوام کی مدد کے لیے وہاں موجود ہیں۔۔ لیکن ہمیں آئندہ ایسی صورتحال کے لیے بہتر پلاننگ اور تیاریاں کرنی ہیں ۔۔ڈاکٹر عبد الحق نے اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں بات کا آغاز کیا ، ڈاکٹر حیدر اور دیگر سینئر افسران کی نسبت وہ سیو دی ارتھ کی سرگرمیوں میں ہر طرح بھرپور معاونت کر رہے تھے۔
“مزید پلاننگ اور تیاریاں شروع کرنے سے پہلے ہمیں اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنی ہوگی ۔۔پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ ہی نہیں ہمارا سسٹم بھی اِن تباہ کن بارشوں کی قبل از وقت وارننگ جاری کرنے میں ناکام رہا ہے۔”
منتہیٰ نوٹس پیڈ پر لکھتے لکھتے پہلا انتہائی اہم پوائنٹ سامنے لائی تو ڈاکٹر عبدالحق کے لب بے اختیار مسکرا اٹھے۔ وہ ہمیشہ دور کی کوڑی لاتی تھی۔
“ہمارا سسٹم پوری طرح الرٹ تھا اور معمول کی مون سون بارشوں کا امکان ہی تھا ۔۔ ۔مگر پھر اچانک موسم میں تغیر ہوا اور پھرصرف تین چار روز میں اتنی شدید موسلا دھار بارشیں اس سے پہلے کبھی ریکارڈ نہیں کی گئیں” ۔شہریار نے اپنے سسٹم کا دفاع کیا۔
“موسم میں اچانک رونما ہونے والا یہ تغیر۔۔کیا ہارپ کی کسی آ ئیونو سفیئر ہیٹنگ سرگرمی کی نشان دہی نہیں کرتا۔۔؟؟”
“بالکل ایسا ہی ہوا ہے مس دستگیر۔۔ لیکن یُو نو واٹ ۔کہ اس معاملے میں سب ممالک بے بس اور خاموش تماشائی ہیں۔۔پاکستان کا یہ سیلاب ہی نہیں چند سال پہلے آ نے والا ہیٹی کا تباہ کن زلزلہ ، جاپان فوکو شیما ،اور نیپال کے وہ زلزلے ۔۔جو وسیع انفرا سٹرکچر کی تباہی کا باعث بننے سب یقیناٌ ہارپ کی سرگرمیوں کا نتیجہ تھے ۔۔۔ لیکن حتمی طور پر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں اور اگر ہو بھی تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔ ڈاکٹر عبدالحق کا جواب خاصہ مدلل تھا ۔۔
یو آر رائٹ سر !بے شک ہم انہیں روکنے یا پسپا کرنے کی صلا حیت نہیں رکھتے ۔۔ لیکن ہم ایک ایسا سسٹم ضرور ڈیویلپ کر سکتے ہیں جو ہارپ کی ان یو ایف او کی کسی بھی علاقے میں موجودگی کو نہ صرف فو ری طور پر ڈیٹیکٹ کر کے وارننگ جاری کرے بلکہ اِن کا بھرپور تجزیہ کر کے اندازہ لگا جا سکتا ہے کہ انکی سرگرمی سے آ نے والی ناگہانی آ فت کیسی اور کس قدر تباہ کن ہوگی ۔۔ تاکہ فوری طور پر سسٹم کے ذریعے ریسکیو آ پریشن کی ایک سٹریٹیجی ڈیویلپ کی جا سکے ۔”
“منتہیٰ دستگیر بیشک ایس ٹی ای کا ۔۔۔برین تھی ۔”
دو گھنٹے کی طویل میٹنگ میں بہت سے نئے پوائنٹس سامنے آئے ۔۔ اور کچھ کو ارمان کی واپسی تک کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا ۔کہ اس وقت ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ سیلابی ریلوں کی زد میں آئے ہوئے چاروں صوبوں کی عوام کی مدد اور ان کی آباد کاری تھا۔
خیبر سے بلوچستان تک، کروڑوں کی کھڑی فصلیں ، اربوں کے مکانات اور اراضی کو روندتا ہوا ۔اپنے پیچھے تباہی کی خون آ شامداستانیں چھوڑتا سیلاب گزر چکا تھا ۔۔۔
حکومتی عہدیداران بھی آ ٹا ، دال چاول کے تھیلوں اور خیمے بانٹتے ہوئے فوٹو سیشن کروا کر جا چکے تھے اورِ۔ نیرو چین کی بانسری بجاتا رہا ۔۔۔رات گئی بات گئی مٹی پاؤ ۔۔
’’ فاتحہ لوگوں کے مرنے پر نہیں بلکہ احساس کے مرنے پر پڑھنی چاہیئے ۔۔ کیونکہ لوگ مر جائیں تو کسی نا کسی طرح صبر آ ہی جاتا ہے مگر احساس مر جائے تو معاشرہ مر جاتا ہے ۔۔ اور ہمارے حکمرانوں میں یقیناٌ احساس مر چکا ہے۔۔۔ خدا کا قانون ہے کہ نصیحت سے سبق حاصل کرکے وہی لوگ فلاح پاتے ہیں جن کے دل اور ضمیر زندہ ہوں ورنہ ۔۔ مردوں کا عبرت سے کوئی یارانہیں ہوتا ۔‘‘‘
جوں جوں سیلاب کا پانی اترتا گیا ، علاقہ مکین اپنے اپنے لٹے پٹے گھروں کو لوٹنے لگے ، مگر وہ بے خبر تھے کہ وہاں ایک
نئی آفت اپنا اژدھا سا منہ کھولے ان کی منتظر تھی۔
شدید گرمی کے باعث وباعی امراض بہت تیزی کے ساتھ پھوٹے تھے، اور ان کی زد میں صرف مقامی افراد ہی نہیں بلکہ ارمان کے کئی ساتھی بھی آگئے تھے، جو گزشتہ ایک ماہ سے گھر بار چھوڑے اس کے ساتھ در در کی خاک چھان رہے تھے۔
چار و ناچار انہیں واپسی کے لیے رختِ سفر باندھانہ پڑا ۔
ارمان خو د کئی روز سے شدید بخار میں مبتلا تھا ، مگر اس نے آرام کے بجائے ایس ٹی ای کی میٹنگ میں شرکت کو ترجیح دی تھی۔
اس کا سنولایا ہوا رنگ اور ستا ہوا چہرہ دیکھ کے ارحم بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔
“تو میرا وہی ہینڈسم یار ارمان یوسف ہی ہے نہ ۔ ”
“ہاں ۔ کیوں میرے سر پر تجھے سینگ نکلے نظر آرہے ہیں “۔ ارمان خلافِ مزاج جھلایا۔
“نہ ۔ پر سینگ نکل آتے تو کوئی بارہ سنگی تجھے قبول کر لیتی، مگر اب یونیورسٹی کی اُن تمام حسیناؤں کا کیا ہوگا جو تیرے آسرےپر بیٹھی تھیں”۔ ارحم کو غم کھائے جا رہا تھا۔
“تو ان کی فکر میں زیادہ مت گھل، ایک آدھ تیرے پاس آجائے گی باقی بھی کہیں نہ کہیں کھپ ہی جائیں گی، لومڑیاں نہ ہوں تو “۔ ارمان کو ایسی لڑکیوں سے شدید چڑ تھی۔
“وہ تو ٹھیک ہے پیارے۔ پر اپنا خیال کرنا تھا نہ آرام کرتا ۔ ”
“آرام رات کو ہو جائیگا ، مگر ابھی میری میٹنگ میں شرکت بہت ضروری تھی”۔ ارمان نے انگلیوں کی پوروں سے ماتھا سہلایا۔
سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔ اسی وقت ڈاکٹر عبد الحق میٹنگ روم میں داخل ہوئے، ان کے ساتھ منتہیٰ ، رامین اور فاریہ بھی تھیں۔
ویل بوائے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ سب اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے سر انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر یوسف نے ارمان کی گری گری سی حالت پہلی نظر میں نوٹ کی تھی۔
“سر اس وقت سیلاب سے متاثرہ علاقے ، خصو صاََ پنجاب اور سندھ کو ادویات اور پیرا میڈیکل سٹاف کی شدید ضرورت ہے۔میرا اندازہ ہے کہ سیلاب سے اتنا جانی نقصان نہیں ہوا جتنا وبائی امراض کے باعث ہونے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ پاک آرمی پوری طرح مستعد ہے مگر جتنے بڑے رقبے پر سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے ، وہ صرف فوج کے جوانوں کے بس کا کام نہیں ہے۔”
“رائٹ یو آر ۔ اینڈ یو نو واٹ کے یہ وہ پوائنٹ ہے جو آج تک ہم نظر انداز کرتے آئے تھے۔ ہمارے پاس اس طرح کی کوئی سہولت فی ایلحال موجود نہیں ہے۔”
“سر۔ اس سلسلے میں رامین اور میں کئی دنوں سے مصروف تھے۔ ہم نے کنیئرڈ میڈیکل کالج میں پرسوں ایک سیمینار کا انتظام کیا ہے تاکہ میڈیکل سٹوڈنٹس کو دور دراز کے ان علاقوں تک جانے پر آمادہ کیا جاسکے۔”
منتہیٰ کی تفصیلی مداخلت پر ڈاکٹر عبدالحق اور ارمان کی نگاہیں چند لمحوں کے لیے اس پر ساکت ہوئیں۔
مگر اُن دونوں کے احساسات مختلف تھے، ڈاکٹر عبدالحق کو ہمیشہ اس کی بھرپور تیاری اور مدلل جواب متاثر کرتا تھا ، تو ارمان کو ہر دفعہ وہ اس کی ایک اور جیت معلوم پڑتی تھی۔
“اگرچہ وہ مہینوں سے ایک ساتھ ایک بڑے مشن پر دن رات ایک کیے ہوئے تھے مگر ان کا اول روز کا مقابلہ او رآپس کا موازنہ آج بھی جاری تھا۔ جس میں منتہیٰ پلڑا بھاری تھا ،مگر ارمان کو کبھی اس سے جیلیسی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ اور منتہیٰ خود کیا احساسات رکھتی تھی ، یہ تو اس کے انتہائی قریبی لوگ بھی جاننے سے قاصر تھے۔”
***********
کینیئرڈ میڈیکل کالج میں ایک کامیاب سیمینار کے بعد ایس ٹی ای کا برین اور سوشل میڈیا ونگ لاہور اور کراچی کے کئی اورمیڈیکل کالجز میں سٹوڈنٹس کو کنوینس کرنے کے لیئے سر گرم تھا، مگر شدید گرمی میں ان وبا ء زدہ علاقوں میں جانے کے لیے بہت کم ڈاکٹرز آمادہ تھے۔
“کیا یہ لوگ میڈیکل جیسے مقدس پیشے کو اس لیئے اختیار کرتے ہیں کہ بے بس و لاچار ، مجبور لوگ گاجر مولی کی طرح ان کی نگاہوں کے سامنے کٹ کر مرتے رہیں ، اِن کے پنجر وجود سے وبائی امراج کا تعفن اٹھ کر اپنے ساتھ سینکڑوں کو لپیٹ میں لیتا رہے،اور مستقبل کے معمار ، یہ انسانیت کے مسیحا اِن موٹی موٹی کتابوں میں سر گھسائے ہر شے سے بیگانہ اپنی دنیا میں مگن جیتے رہیں؟؟
ارمان نے پراگریس دیکھ کر شدید طیش میں بہت غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔
مگر اس کے سوال کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں تھا ، حتیٰ کہ ہمیشہ الرٹ رہنے والی منتہیٰ بھی اس روز نظریں جھکائے خاموش بیٹھی رہی ۔۔”اُس کا اپنا دل بجھ سا گیا تھا۔”

جاری ہے

***********

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں