The news is by your side.

Advertisement

پائیدار ترقی کانفرنس2017: اے آر وائی نیوز کو ملا ایک اور اعزاز

اسلام آباد: خواتین کی خودمختاری کے لیے کوشاں اے آر وائی نیوز کو ملا ایک اور اعزاز‘ 20 ویں پائیدار ترقی کانفرنس میں ’اے آروائی نیوز کی رپورٹر‘ رابعہ نور کو ویمن امپاورمنٹ کے لیے اس سال کی بہترین رپورٹر کا اعزاز دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 20 ویں پائیدار ترقی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کے ضمن میں معاملات کو اجاگر کرنے میں میڈیا کلیدی کردار کا حامل ہے۔

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتما م 20ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے دوسرے روز میڈیا ایوارڈز برائے پائیدار ترقی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ بڑھتی ہوئی انتہاپسندی ملک کو درپیش سنگین ترین چیلنج تھا‘ حکومت سمجھتی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ترقیاتی اخراجات کی مد میں ایک ٹریلین روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ ہمیں آگاہ رہنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے مسائل ابھی ختم نہیں ہوئے ۔دہشت گردی کے علاوہ بڑھتی ہوئی آبادی ہمارے لیے سنگین چیلنج ہے تاہم ہمیں امید ہے کہ حکومت 2025کے ویژن کے تحت ان تما م مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ پائیدار ترقی کے ضمن میں معاملات کو اجا گر کرنے میں میڈیا کا کردار کلیدی ہے ۔ میں ان تما م صحافیوں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں جن کی پائیدار ترقی کے حوالے سے خدمات کے ضمن میں آج انہیں ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سینئر صحافیوں کو بھی مبارکباد پیش کرتی ہوں جنہوں نے پائیدار ترقی کے موضوعات پر گفتگو کے فروغ میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں سینئر صحافی اور انسانی حقوق کی جدو جہد کی علامت آئی اے رحمان کو بھی مبارکباد پیش کرتی ہوں جنہیں ’لائف اچیومنٹ ایوارڈ 2017‘ دیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے پائیدار ترقی کے موضوعات کو فروغ دینے میں کردار ادا کرنے والے صحافیوں اور اداروں میں میڈیا ایوارڈ برائے پائیدار ترقی تقسیم کیے جس میں سے وویمن امپاورمنٹ کے اہم اور حساس موضوع پر اے آروائی نیوز ( لاہور) سے تعلق رکھنے والی رابعہ نور کو ایوارڈ سے نوازا گیا ۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں