site
stats
اے آر وائی خصوصی

سانحہ بابری مسجد کو 24برس بیت گئے، کوئی ملزم گرفتار نہ ہوا

ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کو 24 سال بیت گئے لیکن بھارتی حکومت کی جانب سے آج تک کسی ایک ملزم کو بھی نہیں پکڑا جاسکا۔

بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت میں ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے تھے۔ گودھرا، گجرات ٹرین حملوں سمیت فسادات میں 3 ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔

post-8

  post-3

post-7

24 سال گزرنے کے باوجود بابری مسجد کی شہادت کے کسی بھی ملزم کوسزا نہیں ہو سکی۔

post-6 post-5

6 دسمبر 1992ء کو بھارتی نیم فوجی دستوں،ہندو انتہا پسند شیوسینا، آر ایس ایس کے غنڈوں نے حکومتی سرپرستی میں 16ویں صدی کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا۔

post-2

post-3

بابری مسجد کی شہادت کے خلاف اس وقت کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ اور شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے اور ایل کے ایڈوانی سمیت 49 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔۔۔

post-1

بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر نے تعمیر کروائی تھی۔ ہندو انتہاپسندوں کا دعویٰ تھا کہ رام کی جائے پیدائش پر بنے رام مندر کو ڈھا کر بابری مسجد بنائی گئی ہے۔ انتہا پسند ہندو اس حوالے سے مستند تاریخی ثبوت دینے میں ناکام رہے۔

post-2 post-1

post-4

دنیا بھر کے مسلم اور غیر مسلم ممالک، مذہبی و غیر مذہبی رہنما، سیاسی شخصیات، وزرائے اعظم اور صدور نے مسجد کی شہادت پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور اسے شدت پسند بھارت کی جانب سے مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکا قرار دیا تھا لیکن افسوس کے سانحے میں ملوث کسی انتہا پسند کو سزا نہیں ملی

مسجد کی شہادت کے بعد بھی مسلمانوں نے بابری مسجد میں نماز ادا کی(اویر تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے)۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top