The news is by your side.

Advertisement

گھر کی بات گھرمیں ہی رہنی چاہیے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ گھر کی بات گھر میں ہی رہنی چاہیے، ہم تو برادری کی بات بھی باہر نہیں کرتے، میں چند دنوں کا مہمان ہوں میں نے بھی چلےجانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس عمر عطابندیال نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فروری اور مارچ میں سپریم کورٹ 4ہزار مقدمات کا فیصلہ کرچکی ہے، عدالت عظمیٰ میں زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں ایک ہزار تک کمی آئی، زیرالتواء مقدمات نمٹانے پر ساتھی ججز اوروکلا کا مشکور ہوں،انشاءاللہ عدالت اپنا آئینی کردار ادا کرتی رہے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس قاضی امین نے فوجداری مقدمات میں تاریخی فیصلے دیئے، جسٹس قاضی امین نے گواہان کے تحفظ کی ریاستی ذمہ داری کو فیصلوں میں اجاگر کیا، معزز جج نے کبھی تکنیکی نکات کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا اس کے علاوہ خواتین کے حقوق کیلئے جسٹس قاضی امین نے تاریخی فیصلے دئیے۔

فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان بار کونسل نے عمومی الزامات لگاکرججز کو سرکاری ملازم کہا، سپریم کورٹ میں ججز انتہائی قابل اور پروفیشنل ہیں، ججز کو سرکاری ملازم کہنا انتہائی غیرمناسب بات ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کیلئے قابلیت،رویے،بہترین ساکھ اوربغیر خوف و لالچ کامعیار رکھا ہے، اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں ہم سب اللہ کو جواب دہ ہیں،وکلاکیس تیاری کیے بغیر عدالت سے رحم کی توقع رکھیں تو ایسا نہیں ہو سکتا، ججز عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد کئی گھنٹے تک مقدمات سنتے ہیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عوام میں جو کچھ بھی کہا جاتا ہے وہ صرف میڈیا کیلئے ہے، کسی جج کو بغیر ثبوت کے نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ، بنچ تشکیل دینے کا اختیار ہمیشہ سے چیف جسٹس کا رہا ہے، بیس سال سے بنچز چیف جسٹس ہی بناتے ہیں احسن بھون کس روایت کی بات کر رہے ہیں؟ ۔

فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رجسٹرار کی تعیناتی بہترین افسران میں سے کی گئی ہے،رجسٹرار کو قانون کا بھی علم ہے اور انتظامی کام بھی جانتے ہیں،بلاوجہ اعتراضات کیوں کیے جاتے ہیں ؟ کیا آپ چاہتے ہیں انتظامی کام بھی میں کروں؟، کونسا مقدمہ مقرر اور کس بنچ میں ہوناہے یہ فیصلہ میں کرتا ہوں۔

معزز چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ مجھ سے کسی کو تکلیف ہے تو آ کر بات کریں، ادارے کی باتیں باہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی،ہم تو برادری کی بات بھی باہر نہیں کرتے، میں چند دنوں کا مہمان ہوں میں نے بھی چلےجانا ہے، مگر یاد رکھیں کہ ہم ججز نے بھی اپنے حلف کی پاسداری کرنی ہے،ججز خود پر لگے الزامات کا جواب نہیں دے سکتے، فیصلوں پر تنقید کریں ججز کی ذات پر نہیں ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں