The news is by your side.

کرونا کی تباہ کاریاں، کروڑوں بچے جسمانی مشقت پر مجبور

دنیا بھر میں کم عمر کے بچوں سے مشقت لینے یا انہیں بطور غلام رکھنے کا سلسلہ نیا نہیں، تاہم مختلف معاشروں میں بچوں سے مشقت لینے کے نئے نئے طریقے اپنائے جا رہے ہیں،اقوام متحدہ کی رپورٹ میں چشم کشا انکشافات سامنے آگئے۔

اقوام متحدہ کے بہبود اطفال کے ادارے (یونیسیف) کے مطابق اس وقت دنیا میں کم وبیش سولہ کروڑ بچے جسمانی مشقت پر مجبور ہیں، ان میں سے تقریباً نصف جسمانی طور پر انتہائی محنت والے کام کرتے ہیں، زیادہ تر بچوں کو کان کنی جسیے مشکل کام پر لگادیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاطینی امریکا کے ملک برازیل میں مویشیوں کے فارمز پر بچوں سے مشقت لینے اور انہیں بطور غلام رکھنے کی فرسودہ روایت آج بھی برقرار ہے، سب سے سنگین صورت حال جنوبی امریکی ملک بولیویا میں ہے جہاں بچوں سے طرح طرح کی مزدوری کروائی جاتی ہے۔Children as young as five make up most of Madagascar's mica mining  workforce | Human rights | The Guardianتاہم سابق صدر، معروف سیاستدان اور ٹریڈ یونین آرگنائزر ایوو مورالس کی قیادت میں بائیں بازو کی حکومت نے دو ہزار چورہ میں ایک ایسا کام کیا جس کے بارے میں اس سے پہلے کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔

انہوں نے بچوں کی مزدوری کو چند شرائط کے تحت قانونی حیثیت دے دی، انسانی حقوق کی ایک معروف وکیل بیانکا مینڈوزا کے بقول،” یہ قانون غریب بچوں کی حقیقی زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔

اس قانون کے تحت صرف دس سال کی عمر کے بچوں کو ہی کام کی اجازت دی گئی تھی اور صرف اس شرط پر کہ ان کا پس منظر واقعی بہت ہی غریب ہو، ساتھ ہی ان کی اجرت مقرر کردی گئی تھی۔Child labour and exploitation | UNICEF South Asiaاس سے قبل بولیویا میں بچوں کو سماجی مراعات دی گئی تھیں اور ان پر رات میں کام کرنے پر پابندی تھی ساتھ ہی ان پر کٹھن مشقت اور خطرناک کام جیسے کہ کان کنی وغیرہ یا گنے کی کاشت جیسے کام کرانے کی سخت ممانعت تھی، اس قانون کو ترقی پسند قرار دیا گیا تھا۔

بولیویا میں بچوں کی محنت و مشقت سے متعلق اس قانون پر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن آئی ایل او اور بہبود اطفال کے عالمی ادارے (یونیسیف) کی طرف سے سخت حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ یہ تنظیمیں اور ادارے اس ‘چائلڈ لیبر‘‘ کو بچوں کا استحصال تصور کرتے ہیں۔

دو ہزار اٹھارہ میں بولیویا کی حکومت نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت اس قانون کو واپس لے لیا، خاص طور سے اس قانونی مسودے میں شامل وہ اقتباسات حذف کئے گئے جو اقوام متحدہ کی طرف سے بچوں کے تحفظ کے لیے طے شدہ معیارات کی خلاف ورزی تھی۔

وکیل بیانکا مینڈوزا کے مطابق پابندی کے باوجود بچوں سے مشقت لینے کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی، اب بھی پانچ سال کی عمر کے بچے کینڈیز، کوکیز، ہیئر بینڈز اور دیگر اشیاء بیچتے نظر آتے ہیں، خاص طور پر رات کے اندھیرے میں کیونکہ ان پر دراصل پابندی تھی۔

بیانکا مینڈوزا کا کہنا ہے کہ بولیویا کے دارالحکومت لاپاز میں اس کے برعکس کام کرنے والے بچوں کی تعداد جو پہلے آٹھ لاکھ پچاس ہزار تھی بہت تھوڑی کمی آئی، کمی کے بعد یہ سات لاکھ چالیس ہزار ہوئی تھی جس میں کرونا وبا کے دور میں دوبارہ سے اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے بچوں کی بہبود کے ادارے یونیسیف نے سرکاری طور پر تخمینہ لگایا ہے کہ ان دنوں بولیویا میں کام کرنے والے بچوں کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار کے پر تنازعہ بھی جاری ہے۔

چند ممالک میں بچوں سے کرائی جانے والی  مشقت کے اعدادوشمار

ایکواڈور کے دارالحکومت کیوٹو میں کم عمر بچیاں رات کے اندھیرے میں ڈسکو تھیکس کے سامنے کھڑی غیر ملکی سیاحوں کو سگریٹ فروخت کرتی ہیں اور چھوٹے لڑکے پیسے والے حضرات کے جوتے پالش کرتے ہیں۔

Children selling cigarettes in Marrakech, a photo from Marrakech, South |  TrekEarth

کولمبیا کے دار الحکومت بوگاٹا میں گیارہ سال سے کم عمر بچے کئی کلو وزنی مکئی، چاول یا پھلیوں کی بوریاں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے ہوتے ہیں یعنی وہ مال برداری جیسی مشقت پر مجبور ہیں، پیرو میں بھی مزدور بچوں کی کچھ یہی صورتحال ہے۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کرونا وبا نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے، دیگر ماہرین اس بات پر متفق ہے کہ ”چائلڈ لیبر‘‘ ایک حقیقت ہے جس سے چشم پوشی کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے مسئلہ اور سنگین ہو سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں