The news is by your side.

Advertisement

ماہرین فلکیات کا زبردست کارنامہ

ماہرین فلکیات کا زبردست کارنامہ سامنے آیا ہے، بین الاقوامی فلکیاتی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے آسمان کے 27 فی صد حصے کا نقشہ تیار کر لیا ہے، جس میں حیرت انگیز طور پر 44 لاکھ کہکشاؤں، عظیم بلیک ہولز اور دیگر خلائی اجسام کو دکھایا گیا ہے۔

برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آسمان میں اربوں نوری سال کے فاصلے پر موجود تقریباً 4.4 ملین خلائی اجسام کی ماہرین فلکیات نے نقشہ سازی کر دی ہے، جن میں 1 ملین خلائی اجسام وہ بھی شامل ہیں جنھیں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

ان میں سے اکثر اجسام کہکشاؤں کے ہیں، جو بڑے پیمانے پر بلیک ہولز یا تیزی سے بڑھتے ہوئے نئے ستاروں کے لیے گھر کی طرح ہیں، دیگر دریافتوں میں دور دراز ملکی وے میں موجود کہکشاؤں کے ٹکرانے والے گروہ اور بھڑکتے ہوئے ستارے شامل ہیں، جو چمک میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

فلکیاتی ماہرین کی ٹیم نے یہ مشاہدات بڑی مقدار میں اُس ڈیٹا کا تجزیہ کر کے کیے، جو کم فریکوئنسی والے ایک ریڈیو ٹیلی اسکوپ لوفر (LOFAR) سے حاصل کیا گیا، جو شمالی نصف کرہ کے تقریباً ایک چوتھائی آسمان کا مشاہدہ کرنے کے لیے کم ریڈیو فریکوئنسی کا استعمال کر رہا ہے اور اسے اچھی طرح سے کیٹلاگ کر رہا ہے۔

یہ نقشہ ایک متحرک کائنات کی تصویر پیش کرتا ہے، اس پروجیکٹ کی پشت پر موجود ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا سیاروں اور کہکشاؤں سے لے کر بلیک ہولز تک وسیع پیمانے پر موجود اشاروں کے لیے تازہ فہم دیتا ہے۔

ڈیٹا کا یہ بیچ LOFAR اسکائی سروے کا دوسرا بیچ ہے، جسے پبلک کیا گیا ہے اور یہ پہلے بیچ سے 13 گنا زیادہ رقبے پر محیط ہے، پہلے بیچ نے تقریباً 3 لاکھ کہکشاؤں اور دیگر خلائی اجسام کے ریڈیو سگنلز کو لاگ کیا تھا۔

خیال رہے کہ ریڈیو فلکیات (Radio astronomy) کائنات کے رازوں کو افشا کرنے کا ایک اور طریقہ ہے، خاص طور پر ایسی چیزیں کو جو روشنی کی مرئی لہروں سے نہیں دیکھی جا سکتیں، جیسا کہ بلیک ہولز۔

آسٹرون اور لائیڈن یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ سائنس دان ماہر فلکیات ٹموتھی شِم ویل نے جاری بیان میں کہا کہ ہر بار جب ہم کوئی نقشہ بناتے ہیں تو ہماری اسکرینیں نئی دریافتوں اور اشیا سے بھر جاتی ہیں جو پہلے کبھی انسانی آنکھوں نے نہیں دیکھی تھیں، ان مانوس مظاہر کو دریافت کرنا جو توانائی سے بھرپور ریڈیو کائنات میں چمکتے ہیں، ایک ناقابل یقین تجربہ ہے، ہماری ٹیم اس قابل ہونے پر بہت خوش ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ یہ مستقبل میں بہت سی سائنسی کامیابیوں کا باعث بنے گا، بشمول یہ جانچنا کہ کائنات میں عظیم اسٹرکچر کیسے نمو کرتے ہیں، کس طرح بلیک ہولز بنتے اور ارتقا کرتے ہیں، دور دراز کی کہکشاؤں میں ستاروں کی تشکیل کو کنٹرول کرنے والی طبیعیات سے متعلق بھی اور خود ہماری اپنی کہکشاں میں ستاروں کی زندگی کے شان دار مراحل کو بھی جانا جا سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں