بدھ, جولائی 22, 2026
اشتہار

27ویں آئینی ترمیم کا ابتدائی مسودہ تیار، حکومتی ذرائع

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (7 نومبر 2025): وزارت قانون کی اعظم نذیر تارڑ، بیرسٹر عقیل اور سیکرٹری قانون پر مشتمل ٹیم نے 27ویں آئینی ترمیم کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا۔

حکومتی ذرائع نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، ایک دو نکات پر سیاسی جماعتوں میں مشاورت جاری ہے، حکومت نے پیپلز پارٹی کو این ایف سی ایوارڈ کو نہ چھیڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کو حتمی شکل دینے سے پہلے حکومت پیپلز پارٹی کے جواب کی منتظر ہے، حکومتی اتحادی جماعت کے گرین سگنل کے بعد مسودے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف آئینی درخواست دائر

ذرائع نے مزید بتایا کہ مسودہ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے وفاقی کابینہ منظوری دے گی، پیپلز پارٹی کی تجاویز کو بھی حتمی مسودے میں شامل کیا جائے گا۔

’ہفتے کو سینیٹ اجلاس رکھنا پیشگی تیاریوں کا حصہ ہے۔ پیپلز پارٹی سے معاملات طے ہونے پر ہفتے کو آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش کرنے کا آپشن موجود ہے۔‘

دوسری جانب، سپریم کورٹ میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف آئینی درخواست دائر کر دی گئی جس میں استدعا کی گئی کہ اس سے عدالتی نظام مفلوج اور عدالتیں غیر مؤثر ہوجائیں گی۔

درخواست سینئر وکیل علی طاہر کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت جمع کروائی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مجوزہ ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو آئین کے بنیادی ڈھانچے کے منافی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق آرٹیکل 184 (3) اور 199 کے تحت عدالتی جائزے (Judicial Review) کے اختیارات آئین کا بنیادی ستون ہیں، عدالتی جائزے کے اختیارات کو ختم، معطل یا متوازی نظام سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست میں کہا گیا کہ درخواست کا مقصد 27ویں ترمیم سے پہلے اعلیٰ عدالتوں کے دائرہ اختیار کو محفوظ بنانا ہے، اگر مجوزہ 27ویں ترمیم منظور ہوگئی تو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس آئینی نوعیت کے معاملات کی سماعت نہیں کر سکیں گی جس سے عدالتی نظام مفلوج اور عدالتیں غیر مؤثرہو جائیں گی۔

اہم ترین

اظہر فاروق
اظہر فاروق
اظہر فاروق اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے ڈپٹی بیورو چیف اور سینئر صحافی ہیں، 30 سالہ صحافتی تجربہ ہے، پارلیمنٹ، وزیر اعظم ہاؤس، کابینہ اور سیاسی و پارلیمانی امور پر نظر رکھتے ہیں۔

مزید خبریں