اتوار, جولائی 12, 2026
اشتہار

سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترمیم پر ججز اور وکلا میں دلچسپ مکالمہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (7 نومبر 2025): سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سول سروس رولز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران مجوزہ آئینی ترمیم پر ججز اور وکلا میں دلچسپ مکالمہ ہوا۔

سول سروس رولز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا یہ کیس آج ختم ہو جائے گا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میرے خیال سے آج شاید کیس ختم نہ ہو پائے۔

وکیل فیصل صدیقی نے نام لیے بغیر 27ویں آئینی ترمیم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میری درخواست ہے کہ آج کیس کا فیصلہ کیا جائے کیونکہ میں وفاقی شرعی عدالت کی بلڈنگ میں کیس پر دلائل دینا نہیں چاہتا، بلڈنگ ہی لے لینی تھی تو وفاقی شرعی عدالت کی کیوں؟

یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پر پیپلز پارٹی اجلاس میں گرما گرم بحث چھڑ گئی

ان کی بات پر آئینی بینچ کے ججز مسکرا دیے۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بلڈنگ لینی تھی تو ساتھ والی عمارت لے لیتے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ رات آپ کے حق میں کچھ پیشرفت ہوئی۔

فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے کوئی شبہ نہیں سپریم کورٹ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر یہی ایمان ہے تو پھر فکر کی کیا بات ہے؟ ہم آئین کے پابند ہے۔

وکیل نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے وفاقی شرعی عدالت کیوں بنائی گئی تھی، آپ ججز اس کمرہ عدالت میں کتنے گرینڈ لگتے ہیں؟

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عمارت کے تبدیل ہونے سے اختیارات کم نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت 27ویں آئینی ترمیم لانے کی تیاری کر رہی ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے تحت آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پیر یا منگل سینیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف آج آذربائیجان کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے، ان کی وطن واپسی پر وفاقی کابینہ کی منظوری سے 27ویں ترمیم ایوان میں پیش ہوگی۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں