اسلام آباد (10 نومبر 2025): 27 ویں آئینی ترمیم میں آئینی عدالت ججز تبادلے اور استثنیٰ سے متعلق تفصیلی رپورٹ سینیٹ میں پیش کر دی گئی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس میں ماہر قانون دان سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے 27 ویں آئینی ترمیم پر کمیٹی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں آئینی عدالت، ججز تبادلے، استثنیٰ معاملات پر تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے۔
فاروق ایچ نائیک نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا دونوں ایوانوں کے ممبران پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی نے جائزہ لیا۔ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی ترامیم پر اتفاق رائے کی سوچ اختیار کی اور بل کے اندر کافی تبدیلیاں کی ہیں۔
فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ کمیٹی نے آئینی ترمیم پر اتفاقِ رائے سے پیش رفت کی۔ اجلاس میں ججز کے ٹرانسفر اور ریٹائرمنٹ پر تفصیلی غور کیا گیا۔
آئینی ترمیم میں عدلیہ کی آزادی اور احتساب کا توازن پیشِ نظر ہے۔ ترمیم کا مقصد عدالتی آزادی اور اداروں میں توازن برقرار رکھنا بتایا گیا۔ کمیٹی نے ترامیم کو عدلیہ کی خودمختاری سے ہم آہنگ قرار دیا۔ مجوزہ ترمیم ججز کی احتسابی عمل کو مزید شفاف بنائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی۔ اس میں سپریم کورٹ ججز میں سے تعیناتی ہوگی تو سنیارٹی وہی رہے گی جو موجودہ ہے۔ آئینی عدالت کیلیے کسی وکیل یا ہائیکورٹ سے جج لگایا جائیگا تو اسی دن سے سنیارٹی شروع ہوگی۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئینی عدالت درخواست پر ہی سوموٹو لے سکے گی اور سوموٹو کیلیے درخواست پر فیصلہ پہلے کرے گی۔ ایک سال میں فیصلہ نہ ہونے پر اسٹے آرڈر ختم سمجھا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ججز کی خودکار ریٹائرمنٹ ختم کر دی گئی ہے۔ اب سپریم جوڈیشل کونسل اس کا فیصلہ کرے گی۔ جج کے تبادلے سے انکار پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہوگا۔ اس میں ججز کو ٹرانسفر کیس میں سماعت کا مکمل موقع دیا جائے گا۔ تاہم سپریم جوڈیشل کونسل وجوہات درست نہ مانے تو ٹرانسفر لازم ہوگا۔
27 ویں ترمیمی بل میں صدر کو لائف ٹائم امیونٹی کی تجویز تھی۔ اب اگر وہ پبلک آفس ہولڈر بنتے ہیں تو امیونٹی ختم ہو جائے گی۔ بل میں صدرِ مملکت کے خلاف مقدمات سے مستقل استثنیٰ کی شق شامل ہے مجوزہ ترمیم میں صدر کی مدتِ صدارت سے آگے بھی تحفظ شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن میں اقلیتی اور خاتون رکن کے ساتھ ٹیکنوکریٹ نمائندے کا اضافہ کیا گیا ہے۔


