جمعہ, جولائی 17, 2026
اشتہار

قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کر دیا گیا

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کر دیا گیا ، بل میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام سمیت دیگر اہم شقیں شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں آج 27 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کر دیا گیا، بل وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے پیش کیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئت کہ یہ ترمیم میثاق جمہوریت میں طے شدہ اصولوں کے مطابق تیار کی گئی ہے اور اس میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام سمیت دیگر اہم شقیں شامل ہیں۔

وزیر قانون نے یاد دلایا کہ 26ویں آئینی ترمیم کےوقت بحث کے بعد کچھ ایڈجسٹمنٹ کی گئیں ، ہمیشہ آئین میں ترمیم اکثریت کی حمایت کےساتھ کی جاتی ہے۔ماضی میں میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق ہواتھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پرمولانا فضل الرحمان کے کہنے پر آئینی بینچ پر اتفاق کیاگیا، ہم نےآئینی عدالت کےقیام کےبجائےبینچزپراتفاق کیاپھروہ ترمیم پاس ہوئیں، آئینی ترامیم ہمیشہ اکثریت کی حمایت اور اتفاق رائے سے کی جاتی ہیں۔

اعظم نذیر نے بتایا کہ 26 ویں آئینی ترمیم پاس ہوئی بینچز سے اعتراضات آئے، کہا گیا عدالت میں عدالت بنادی ،نظام چلتا نظر نہیں آتا، کچھ معاملات ایسےتھےجوآگےبھی آتےرہیں گے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ آئینی عدالت کے قیام پر تجاویز اتحادیوں سے لی گئیں، اب اتفاق ہوا وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے ، سینیٹ نے بل دوتہائی اکثریت سےمنظور کیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 27 ویں ترمیم وہی ہے جو میثاق جمہوریت میں طےکیاگیاتھا، فیڈریشن میں برابرکی نمائندگی ہوگی، تاثر دیا گیا 184تھری کو ختم کیا گیا مگر ختم نہیں کیا گیا اسے وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تاہم سینیٹ نےجو بل پاس کیااس میں ایک تبدیلی کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ کمیٹی اجلاس میں جے یو آئی سے سینیٹرکامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران نے شرکت کی، تاہم پارٹی فیصلےکی وجہ سےانہوں نے بھی معذرت کرلی۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں