بدھ, جولائی 15, 2026
اشتہار

27 ویں آئینی ترمیم کے تحت آئینی عدالت قائم کرنے کا فیصلہ، کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے پر غور

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (08 نومبر 2025): 27 ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں، حکومت نے 27 ویں ترمیم کے تحت آئینی عدالت قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئینی عدالت کے ابتدائی طور پر 7 ججز ہوں گے جن کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہوگی، آئینی عدالت کے 7 میں سے 5 ججز کو موجودہ سپریم کورٹ بینچ سے منتخب کیا جائے گا۔

جسٹس امین الدین خان کا نئی آئینی عدالت کا سربراہ ہونے کا امکان ہے، ہائیکورٹس کے بعض ججز بھی نئی عدالت میں تقرری کے لیے زیر غور ہیں، مجوزہ آئینی عدالت صرف آئینی معاملات سے نمٹے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق آئینی عدالت کے قیام سے آئینی تنازعات کے فیصلے جلد ممکن ہو سکیں گے، ان ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر سپریم کورٹ کے ججز سے 3 سال زیادہ ہوگی، آئینی عدالت سپریم کورٹ میں نہیں لگے گی، اس کے لیے 2 آپشنز پر بات چیت جاری ہے۔

پیپلز پارٹی نے 27 ویں مجوزہ آئینی ترامیم کے کن شقوں پر اتفاق نہیں کیا، تفصیلات سامنے آ گئیں

ایک تجویز ہے کہ آئینی عدالت اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت میں لگے گی، ایسا ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کو پرانی جگہ سیکٹر جی 9 منتقل کیا جائے گا، آئینی عدالت کو فیڈرل شریعت کورٹ کی عمارت میں قائم کرنے بھی تجویز ہے، ایسا ہونے پر وفاقی سروس ٹریبونل کو اسی عمارت کی پہلی منزل پر منتقل کیا جائے گا۔

آئینی عدالت کے قیام پر پی پی اور ن لیگ نے 2006 میں میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے، اور اب اتحادی جماعتوں کے درمیان اس پر مذاکرات جاری ہیں۔

27 ویں ترمیم میں کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ متعارف کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، یہ نیا عہدہ آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم کے تحت زیر غور ہے، جس کی مدت ملازمت کا تعین بھی کیا جائے گا، سرکاری ذرائع کے مطابق اس کا مقصد تینوں مسلح افواج کے مابین زیادہ ہم آہنگی اور متحدہ کمانڈ کو یقینی بنانا ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں