اسلام آباد : وفاقی حکومت کی ستائیسویں آئینی ترمیم کے مسودے میں 48 آرٹیکلز میں مختلف ترامیم کی تجویز سامنے آگئی۔
تفصیلات کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ سامنے آگیا ، جس میں وفاق اور صوبوں کے تعلقات مضبوط کرنے اور عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے اڑتالیس آرٹیکلز میں مختلف ترامیم کی تجاویز شامل ہیں۔
مسودے کے اہم نکات درج ذیل ہیں
ججز کی ٹرانسفر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے سپرد کی جائے گی، اور جس ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہوگا، اس کے چیف جسٹس بھی اس عمل کا حصہ ہوں گے۔
بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ اور صوبائی کابینہ کے حجم میں اضافے کی تجویز شامل ہے۔
ایک وقت میں سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے ترامیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات رہے گا اور مشیروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔
آئینی ترمیم میں 48 آرٹیکلز میں مختلف ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔
ترمیم کے ذریعے فیڈرل کونسٹی ٹیوشنل کورٹ کے قیام اور سپریم کورٹ سے علیحدہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی شق شامل ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا، چیف جسٹس کی مدت ملازمت تین سال مقرر ہوگی، اور جج 68 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے۔
آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات سننے کا اختیار حاصل ہوگا۔
آرٹیکل 184 ختم کیا جائے گا اور آرٹیکل 175 میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی ترامیم کی جائیں گی۔
سپریم کورٹ کی آئینی اختیارات محدود اور نئی عدالت کو منتقل کی جائیں گی، اور دونوں عدالتوں کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نو، دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس بطور ارکان شامل ہوں گے۔
آرٹیکل 243 میں ترامیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم اور آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا اضافی عہدہ دیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل کو قومی ہیرو کا درجہ اور تاحیات مراعات دینے کی تجویز شامل ہے۔
وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ، ججز کی تقرری کے نئے طریقہ کار، اور سپریم جوڈیشل کونسل کے قواعد بنانے کی شرائط بھی مسودے میں شامل ہیں۔
آئینی عدالت کا ایڈوائزری دائرہ کار بھی متعین کیا جائے گا۔
یہ ترمیمی مسودہ آئین میں متعدد اصلاحات اور عدالتی نظام کی مضبوطی کے لیے اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے، جسے پارلیمان میں پیش کر کے منظوری دی جائے گی۔


