اسلام آباد: پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان 27ویں آئینی ترمیم کی 2 نکات پر تاحال ڈیڈلاک برقرار ہے تاہم دونوں جماعتوں میں اتفاق رائے کے بعد ترامیم ایوان میں پیش ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کے سلسلے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے وفود کے درمیان اہم ملاقاتیں جاری ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان دو نکات پر تاحال ڈیڈلاک برقرار ہے۔
مسلم لیگ ن کے وفد میں اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ، انوشہ رحمان اور دیگر شامل ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کے وفد میں شیری رحمان، فاروق ایچ نائیک، نوید قمر، مرتضیٰ وہاب شریک ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقاتیں وزیر قانون کے چیمبر میں دو گھنٹے سے جاری ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں جماعتوں میں اتفاق رائے کے بعد ترامیم ایوان میں پیش کی جائیں گی۔
خیال رہے سینیٹ کا اجلاس جاری ہے ، جس میں ستائیس ویں آئینی ترمیم کا بل منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ترمیمی بل ایوان میں پیش کریں گے، جبکہ سینیٹر فاروق ایچ نائیک قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ پیش کریں گے۔
گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے مجوزہ آئینی ترمیم کا مکمل مسودہ منظور کرتے ہوئے شق وار 49 ترامیم کی منظوری دی تھی۔
مجوزہ ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کے عہدے رکھنے والے افراد تاحیات یونیفارم میں رہ سکیں گے جبکہ آئینی عدالتوں کے قیام سے متعلق شق کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔


