The news is by your side.

Advertisement

ٹک ٹاک سے 2 کروڑ سے زائد غیراخلاقی ویڈیوز اور 14 لاکھ سے زائد اکاونٹس بلاک

پشاور: پی ٹی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 میں ٹک ٹاک سے 2 کروڑ 89 لاکھ 35 ہزار 34 غیر اخلاقی ویڈیوز کو ہٹایا اور 14 لاکھ 65 ہزار 612 اکاونٹ غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے پر بلاک کئے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد کی روک تھام کے لئے دائر درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

تحریری حکم نامے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے زیادہ تر نوجوان نسل متاثر ہورہا ہے، عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ٹک ٹاک پر غیراخلاقی مواد روکنے کے لئے ہدایات جاری کئے تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق 2021 میں ٹک ٹاک سے 2 کروڑ 89 لاکھ 35 ہزار 34 غیر اخلاقی ویڈیوز کو اب تک ہٹایا جاچکا ہے جبکہ غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والے 14 لاکھ 65 ہزار 612 اکاونٹ بلاک کر دیئے گئے ہیں۔

تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت کے نوٹس میں لایا گیا کہ غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے لیکن ان کو سزا نہیں ملتی جس کی وجہ سے وہ اکاؤنٹ چلانے والے دوبارہ خلاف ورزی کرتے ہیں۔

عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ پی ٹی اے ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کے لئے جو اقدامات کررہی ہے عدالت اس کو سراہتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ پی ٹی اے اس ایکسرسائز کو جاری رکھے جو غیر اخلاقی مواد شیئر کرتا ہے اسی وقت ان کو بلاک کیا جائے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے اس کے لئے ایک طریقہ کار بنائے تاکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والے اکاؤنٹس کو بلاک کیا جائے اور عدالت نے پی ٹی اے سے آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرلی۔

ٹک ٹاک کے سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کے عصمت اللہ نامی شہری نے درخواست دائر کیا ہے، درخواست گزار کے وکیل سارہ علی خان نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ شروع دن سے ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ ٹک ٹک سے غیر اخلاقی مواد کو ہٹایا جائے۔

وکیل سارہ علی خان کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ اس ایپ کومکمل بند کیا جائے لوگوں کو تفریح کے مواقع ملنا چاہیئے لیکن ایسا تفریح نہیں جو ہمارے معاشرتی اقدار کے خلاف ہوں، ٹک ٹک پر بہت سے ایسے اکاؤنٹ ہے جس سے غیر اخلاقی ویڈیوز شیئر ہوتے ہیں جس کے ہمارے نوجوان نسل پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

پی ٹی اے نے اپنے رپورٹ میں کہا تھا کہ ٹک ٹک پر زیادہ تر اکاونٹ 15 سے 18 سال کے درمیان عمر کے نوجوانوں کی ہے، سارہ علی خان ایڈوکیٹ نے بتایا کہ پی ٹی اے اور متعلقہ ادارے کام کررہے ہیں اور غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والے بہت سے اکاونٹ کو بلاک کیا ہے لیکن مسلہ ابھی حل نہیں ہوا اب بھی ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ ہورہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اس کا کوئی مستقل حل نکالا جائے تاکہ ٹک ٹک پر غیر اخلاقی مواد نہ ہوں اور لوگوں کو تفریح بھی میسر ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں