پیر, جون 15, 2026
اشتہار

فاروق ستار کی بجٹ سے پہلے 28 ویں ترمیم آنے کی پیشگوئی

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے بجٹ سے پہلے 28 ویں ترمیم آنے کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کےعلاوہ تمام جماعتیں بلدیاتی ترمیم کی حامی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ستائیسویں ترمیم کے فوری بعد ایم کیو ایم کو عندیہ دیا گیا تھا کہ اٹھائیسویں ترمیم آئے گی، گمان ہے کہ اٹھائیسویں ترمیم بجٹ سے پہلے آسکتی ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مقتدر حلقوں کا یہ غرور کہ "پیپلز پارٹی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا” بہت جلد خاک میں ملنے والا ہے، کیونکہ آئین کے تحت پی پی پی کے بغیر بھی بہت کچھ ممکن ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے انکشاف کیا کہ 27ویں ترمیم کے فوری بعد ہی ایم کیو ایم کو واضح عندیہ دیا گیا تھا کہ ملک میں 28ویں آئینی ترمیم لائی جا رہی ہے، جو قوی امکان ہے کہ بجٹ سے پہلے آ جائے گی۔

انہوں نے کہا ایم کیو ایم کی پیش کردہ آرٹیکل 140-A کے تحت بلدیاتی آئینی ترمیم اس 28ویں ترمیم کا لازمی حصہ ہوگی، جس سے شہری حکومتوں کو مالی وسائل، اختیارات اور آئینی تحفظ ملے گا، اگر اس ترمیم میں این ایف سی کے ہاتھ پاؤں کھولے گئے تو ایم کیو ایم اس کی بھرپور حمایت کرے گی۔

رہنما ایم کیو ایم نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے علاوہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم کی اس بلدیاتی ترمیم کی حامی ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے اس حوالے سے باقاعدہ معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔

فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کے سیاسی رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو صرف اپنے سیاسی مفادات دیکھ رہے ہیں، پیپلز پارٹی کا دعوی ہے کہ ستائیسویں اور اٹھائیسویں ترمیم میں اس نے صوبوں کے لیے بہت حقوق لیے ، تو پھر جمہوریت کا راگ الاپنے والے نچلی سطح کی جمہوریت کو کیوں اہمیت نہیں دیتے ، اختیارات دینے کی بات کیوں نہیں کرتے۔

انہوں نے خبردار کیا ” پیپلز پارٹی جس طاقت کے نشے میں یہ کہے رہی ہے کہ انکے بغیر کوئی ترمیم ، بجٹ پاس نہیں ہوسکتا ، تو سنو آئین میں بہت ساری شقیں ایسی ہیں جو بتاتی ہیں کہ پیپلز پارٹی کے بغیر بہت کچھ ہوسکتا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کو بہت سیاسی ریلیف (اسپیس) دیا گیا اور ملک میں پہلی بار ایک صدر کو استثنیٰ ملا، لیکن اگر انہوں نے مانگنے کی عادت نہ بدلی تو اس بار لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں، سندھ کو گزشتہ 18 سالوں میں پچیس ہزار ارب روپے ملے مگر وہ کہاں لگے، کسی کو معلوم نہیں۔

ایم کیو ایم رہنما نے واضح کیا کہ اگر پیپلز پارٹی نے بلدیاتی آئینی ترمیم کو تسلیم نہ کیا تو جن علاقوں میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، وہاں آئین کے آرٹیکل 49 کی شق 4 کے تحت ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کروایا جا سکتا ہے۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں