اسلام آباد : پاکستان کی 29 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئی جبکہ غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اقتصادی سروے میں ملک بھر میں غربت کی شرح میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث ملک کی تقریباً 29 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئی ہے۔
سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2018-19 کے بعد سے ملک میں غربت کی شرح میں مسلسل اور تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد اب یہ مجموعی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
اقتصادی سروے کی دستاویزات میں کہا گیا کہ دیہات اور شہروں دونوں جگہوں پر معاشی حالات خراب ہوئے ، دیہی علاقے میں غربت کی شرح 28.2 فیصد سے نمایاں حد تک بڑھ کر 36.2 فیصد ہو گئی جبکہ شہروں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
صوبائی اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان غربت سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں غربت کی شرح 47 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح 35.3 فیصد، سندھ میں 32.6 فیصد اور پنجاب میں 23.3 فیصد رہی۔
اقتصادی سروے میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں آمدنی کا تفاوت مزید بڑھ گیا ہے، امیر اور غریب کی آمدن کے درمیان فرق 28 فیصد سے بڑھ کر 33 فیصد ہو گیا ہے، جو معاشی ناہمواری میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔


