The news is by your side.

Advertisement

شامی بچے ایلان کے ڈوبنے کا واقعہ، ملزمان کو 125 سال قید

انقرہ: ترکی کی عدالت نے شامی بچے ایلان کردی سمیت درجنوں افراد کی ہلاکت کے تین ذمہ داروں کو 125 سال قید کی سزا سنادی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی فوجداری عدالت نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث 3 کارندوں کو 125، 125 سال قید کی سزا سنادی، تینوں ملزمان کو قید کے دوران کسی مرحلے پر بھی پیرول پر رہا نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ انسانی اسمگلرز نے 2015 میں شام سے ایلان کردی کے اہلخانہ کے علاوہ درجن سے زائد افراد کو کینیڈا پہنچانے کا جھانسہ دیا تھا لیکن کشتی کے کھلے سمندر میں طوفان کی زد میں آنے کے سبب ملاح مسافروں کو تنہا چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کے اجلاس میں ترک صدر کا دو ٹوک خطاب

تین سالہ معصوم بچے ایلان کردی کی لاش لہروں نے ترکی کے ساحل پر پہنچائی تھی، معصوم بچے کو ایک سیکیورٹی اہلکار نے مردہ حالت میں اپنی گود میں اٹھایا اور ایمبولینس تک پہنچایا تھا۔

ترکی کی سیکیورٹی فورسز نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ان تینوں ملزمان کو ایک خفیہ آپریشن کے دوران حراست میں لیا تھا جس کے بعد تینوں کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور شواہد کی روشنی میں گزشتہ روز عدالت نے تینوں کو سزائیں سنائیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران سمندر میں ڈوب کر مرنے والے شامی بچے ایلان کی تصویر دکھائی اور اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’دنیا بہت جلدی ایلان کو بھول گئی، انسانیت کی قسمت مٹھی بھر ممالک کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑی جا سکتی‘‘۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں