کراچی : فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر زیمبیا سے ڈی پورٹ کیے جانے والے 3 پاکستانیوں کو حراست میں لے لیا۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق زیمبیا میں غیر قانونی داخلے کی کوشش پر تینوں ملزمان کو گرفتاری کے بعد پاکستان ڈی پورٹ کردیا گیا تھا۔
تینوں نوجوانوں کو ایئرپورٹ سے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل منتقل کردیا گیا، ملزمان زمبیا میں داخلے سے قبل ڈیڑھ ماہ تک تنزانیہ میں مقیم رہے۔
اس حوالے سے ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ جانے کیلئے مزمل علی نے ایجنٹ نوید کو18لاکھ روپے دیئے جبکہ ارسلان اور اویس نے ایجنٹ کو فی کس 3 لاکھ امریکی ڈالرز ادا کیے تھے۔
شارجہ سے 5 پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کردیا گیا
یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں شارجہ سے جعلی برطانوی ویزوں کے حامل 5 پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کردیا گیا ہے۔
ایف آئی اے ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈی پورٹ مسافروں کو لاہور ایئرپورٹ پہنچتے ہی حراست میں لے لیا گیا، ملزمان میں وقار انجم، طیب افتخار، علی شان، ملک ظہیر، ملک ذیشان شامل تھے۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مذکورہ مسافر وزٹ ویزے پر لاہور سے ملائیشیا روانہ ہوئے تھے، ملائیشیا میں قیام کے بعد ملزمان نے جعلی دستاویزات پر شارجہ سے برطانیہ جانے کی کوشش کی۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان نے ایجنٹوں کی مدد سے جعلی ویزے حاصل کیے، جعلی دستاویزات پر ملزمان کو پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


