The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 3 فلسطینی شہید

غزہ: فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تین فلسطینی شہید جبکہ 7 زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے کے علاقے جینن میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیل فوج کی فائرنگ سے تین کشمیری شہید ہوئے۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق جینن میں اسرائیلی فوج ایک فلسطینی شہری کے گھر کو زبردستی مسمار کرنا چاہتی تھی جس کے خلاف علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا۔

مزید پڑھیں: فلسطین کا امریکا سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان

اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو نوجوان اور ایک فلسطینی اتھارٹی کا اہلکار شہید ہوا۔ شہریوں کی شہادت کے بعد مظاہرین مشتعل ہوئے اور انہوں نے فوج پر پتھراؤ کیا۔

یاد رہے کہ 29 جنوری کوٹرمپ نے 80 صفحات پر مبنی مشرق وسطیٰ کا امن منصوبہ پیش کیا تھا، امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیت المقدس اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مقبوضہ مشرقی یروشلم میں دارالحکومت بھی فراہم کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے سے فلسطین میں پچاس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، اگر سارے معاملات آسانی کے ساتھ طے ہوگئے تو 10 لاکھ فلسطینیوں کو ملازمت کے مواقع بھی مل سکیں گے۔

ٹرمپ کی جانب سے منصوبے کا اعلان ہونے کے بعد سے اب تک ہزاروں فلسطینیوں نے سڑکوں پر ہیں اور انہوں نے اس پلان کو یکسر مسترد کر دیا۔ تین روز سے احتجاج کرنے والے مظاہرین مسلسل امریکا اسرائیل دوست اور اسرائیل نا منظور کے نعرے بلند کررہے ہیں۔ مظاہرین نے امریکا کو باور کروایا کہ اُن کی سرزمین پر کوئی بھی ملک اپنی مرضی کی پالیسی مسلط نہیں کرسکتا۔

بعد ازاں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمودعباس اور حماس نے امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابلِ برداشت قرار دیا تھا جبکہ حماس تنظیم نے بھی امریکی اعلان اور منصوبے کو نہ ماننے اور مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں