سعودی عرب: کرپشن پر وزرا کو 10 سال تک قید کا حکم ARYNews.tv
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: کرپشن پر وزرا کو 10 سال قید کا حکم

ریاض: سعودی حکومت نے اپنے وزرا کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور مالی غبن کی صورت میں 10 سال تک قید کی سزا کا قانون نافذ کردیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں ایک قانون نافذ کردیا گیا ہے جس کے مطابق مملکت کے کسی بھی وزیرکو اختیارات کے ناجائز استعمال، غلط روی، مالی بدعنوانی یا کسی اور شکل میں ناجائز منفعت حاصل کرنے پر تین تا 10 برس تک قید کی سزا سنائی جاسکے گی۔

نافذ کردہ قانون کے تحت اگر مملکت کا کوئی وزیر کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے جس سے ریاست کو مالی نقصان ہو یا اگر وہ شہریوں کے قانونی حقوق سے انکار کرتا ہے یا اس کے اقدامات کے نتیجے میں اشیائے صرف اور رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں اتار چڑھا ہوتا ہے یا کرنسی یا بانڈز کی قیمتوں میں کمی وبیشی ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے یا دوسروں کے لیے مالیاتی فوائد حاصل کرتا ہے تو وہ سزا کا مستحق قرار دیا جائےگا۔

سعودی اخبار کے مطابق قانون کے مطابق اگر بدعنوان وزرا اپنے اور دوسروں کے لیے مالی منفعت یا فوائد حاصل کریں گے تو انھیں بھی سزا دی جائے گی اور سزا یافتہ وزیر کو اس کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا اور وہ مستقبل میں کسی سرکاری عہدے یا کسی سرکاری ملازمت کا نااہل تصور کیا جائے گا۔

اگر کسی وزیر پر بدعنوانی کا الزام لگایا جاتا ہے تو اس کی تحقیقات کے لیے دو وزرا اور عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے گی اور وہ اپنی تشکیل کے بعد 30 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی۔

الزامات کی تصدیق کے بعد وزیر کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے 5 رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس میں تین وزرا اور عدالت عظمی کے دو سینئر جج شامل ہوں گے،کمیشن میں شامل سب سے سینئر وزیر اس کا سربراہ ہوگا،کمیشن میں ملزم وزیر کا کوئی رشتے دار شامل نہیں کیا جائے گا۔


یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب : غیرملکیوں سے شادی پر ڈرگ ٹیسٹ لازم


عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر کا جرم ثابت ہونے کی صورت میں کمیشن کو وزیر کے خلاف فیصلہ دینے کا اختیار ہوگا جس میں متاثرہ فریق کو ہرجانہ ادا کرنے یا نقصانات کے ازالے کے احکامات بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

سعودی کابینہ ملزم وزیر کو تحریری طور پر اس کے خلاف کیس سماعت کے لیے عدالتی کمیشن کو بھیجنے کی اطلاع دے گی اور وہ حفظ ماتقدم کے طور پر وزیر کو مقدمے کی سماعت سے قبل زیر حراست رکھنے کا بھی حکم دے گی۔

اطلاعات ہیں کہ عدالت کی جانب سے وزیر کو حراست میں رکھنے، مدت میں توسیع، اسے وزارت کے کام سے روکنے اور تنخواہ بند کرنے کے احکامات دیے جاسکتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں