پشاور: 30 بے نامی اکاؤنٹس سے 10 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف -
The news is by your side.

Advertisement

پشاور: 30 بے نامی اکاؤنٹس سے 10 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف

پشاور: بے نامی اکاؤنٹس کے انکشافات کا سلسلہ تا حال جاری ہے، خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت میں 30 بے نامی اکاؤنٹس سے 10 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور میں تیس بے نامی اکاؤنٹس سے دس ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے، ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹس 8 گھریلو ملازمین کے نام پر ہیں۔

اکاؤنٹس 8 گھریلو ملازمین کے نام پر ہیں

ایف آئی کے مطابق ملازمین بارہ سے پندہ ہزار ماہانہ پر کام کرتے ہیں، ان کے اکاؤنٹس منی لانڈرنگ میں استعمال ہو رہے تھے، مزید تفتیش کے لیے ان کے شناختی کارڈ اسٹیٹ بینک کو ارسال کر دیے گئے۔

خیال رہے کہ 9 اکتوبر کو ایف آئی اے نے خیبر پختونخواہ میں درجنوں بے نامی اکاؤنٹس کے کھوج لگانے کا دعویٰ کیا تھا، جسے بے نامی اکاؤنٹس کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت قرار دیا گیا۔

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا تھا کہ بے نامی اکاؤنٹس سے ڈیڑھ ارب روپے کی ترسیلات کا پتا چلا، بیش تر بے نامی اکاؤنٹس ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والوں کے نام ہیں۔


یہ بھی پڑھیں:  خیبر پختون خواہ میں درجنوں بے نامی اکاؤنٹس کا کھوج لگا لیا: ایف آئی اے ذرائع


6 اکتوبر کو ایک اور جعلی بینک اکاؤنٹ کا کیس سامنے آیا، جس میں لاڑکانہ کے طالب علم کے جعلی اکاؤنٹ سے ڈیڑھ ارب روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی جا رہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں