The news is by your side.

Advertisement

جرائم میں ملوث سندھ پولیس کے 34 افسران و اہل کار گرفتار کیے گئے

کراچی: جرائم کو روکنے والے ہی جرائم میں ملوث نکلے، سندھ پولیس کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 3 ماہ میں 49 افسران اور اہل کاروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پولیس کے 49 اہل کاروں کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے پر مجموعی طور پر 19 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

پولیس نے ان مقدمات میں نامزد 34 افسران اور اہل کاروں کو گرفتار کیا، جب کہ مقدمات میں نامزد 15 دیگر اہل کاروں کو تا حال گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ گرفتار ملزمان میں ایس ایچ او سے لے کر کانسٹیبل تک شامل ہیں، رپورٹ کے مطابق اہل کار دہشت گردی، بھتہ خوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث تھے۔

تازہ ترین:  گٹکے کا استعمال، کراچی میں منہ کے کینسر کی ہولناک شرح پر عدالت حیران

سرکاری مال میں خیانت، دھوکا دہی اور جعلی مقابلوں میں بھی پولیس اہل کار ملوث نکلے، گٹکا مافیا، منشیات سمیت دیگر جرائم میں بھی پولیس کی سرپرستی کا انکشاف ہوا۔

ادھر کراچی میں جرائم پیشہ عناصر بھی بے قابو ہو چکے ہیں، آج ایف بی ایریا میں 2 موٹر سائیکل سواروں نے شہری کو لوٹ لیا، شہری سے لوٹ مار کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی اے آر وائی نیوز پر چلائی گئی۔

دوسری طرف آج سندھ ہائی کورٹ میں گٹکے کی فروخت پر پابندی سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے کہا کہ گٹکا جیسی خطرناک چیز فروخت کرنے میں بھی پولیس اہل کار ملوث ہیں، لگتا ہے پولیس والوں کی روٹی اسی سے چل رہی ہے، پولیس اہل کار دھندے سے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ میں گٹکے کے خلاف دائر درخواست میں آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام اور دیگر حکام بھی نامزد ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں