سوات اوراس کے گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے -
The news is by your side.

Advertisement

سوات اوراس کے گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

پشاور: سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.2 اور زمین میں اس کی گہرائی 279 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔

زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے گھروں اور عمارتوں سے باہر کھلے مقامات پرنکل آئے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، اس زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش تھا، تاہم اس سے کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

زلزلے سے متعلق احتیاطی تدابیر

زلزلے کے حوالے سے حفاظتی ماہرین کے مطابق بعض تدابیر اختیار کرکے قیمتی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں کی صورت میں درج ذیل اقدامات سے جانی نقصان کم کیا جاسکتا ہے

زلزلے سے پہلے

گھر میں فرسٹ ایڈ باکس رکھیں اور فرسٹ ایڈ کی تربیت بھی حاصل کریں۔ جن علاقوں میں زلزلوں کا خدشہ ہو وہاں الماریوں پر بھاری اور شیشے سے بنی اشیا رکھنے سے گریز کریں۔ گھر میں بجلی ، گیس، اور پانی کی لائنیں فوراً بند کردیں کیونکہ زلزلے کی قوت سے یہ گیس اور پانی کی لائنیں باآسانی پھٹ جاتی ہیں جو شدید نقصان کی وجہ بنتی ہے۔

زلزلے کے دوران

زلزلے کے دوران کسی بھی حالت میں حواس اور سکون کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور مشکل وقت میں بھی پرسکون رہنے کی کوشش کیجیے۔ اگر آپ گھر کے اندر ہیں تو فوری طور پر دیوار سے چپک کر کھڑے ہوجائیں یا پھر کسی بھاری بھرکم فرنیچر ( میز یا پلنگ) کے نیچے رینگ کر پہنچ جائیں اور زلزلہ تھمنے تک وہیں موجود رہیں۔ اس عمل سے پنکھا، روشنیاں اور گھر کی چھت کے گرنے والے ٹکڑوں سے آپ محفوظ رہیں گے۔ زلزلے کے دوران ماچس اور کسی قسم کا شعلہ نہ جلائیں۔ اگر آپ گاڑی میں ہیں تو گاڑی روک دیں اور زلزلہ تھمنے تک اسی میں بیٹھے رہیں۔ سیڑھیوں اور پتھریلے زینوں سے دور رہیں اور بجلی کی ایلیویٹر اور لفٹ میں سفر نہ کریں کیونکہ زلزلے سے وہ جامد ہوکر رک سکتی ہیں۔

زلزلے کے بعد

ٹوٹی پھوٹی اور خستہ عمارتوں سے دور رہیں کیونکہ آفٹر شاکس سے بھی ان کے ڈھے جانے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔
بھاری جوتے پہنیں تاکہ شیشوں اور ملبے میں موجود دیگر ٹھوس اشیا سے اپنے پیر کو زخمی ہونے سے بچایا جاسکے۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کھلے میدان میں پہنچیں کیونکہ آفٹر شاک پہلے سے کمزور عمارتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور مزید نقصان کی وجہ بنتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں