The news is by your side.

Advertisement

لاہور پولیس کا انوکھا کارنامہ، چار سالہ بچے پر فائرنگ کا مقدمہ

لاہور : پنجاب پولیس نے انوکھے کارنامہ کی مثال قائم کرتے ہوئے چارسالہ معصوم بچے پر فائرنگ اور دھمکیوں کے مقدمات درج کر دیئے۔ لاہور پولیس نے چار سالہ بچے کو مولا جٹ بنادیا، عدالت نے پولیس کے اس اقدام پر رپورٹ طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق پولیس کی مضحکہ خیز رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چار سالہ اسحاق نے اپنے سے 10 گنا بڑی عمر کی خاتون یاسمین بی بی کے گھر میں گھس کر فائرنگ کی اور اہل خانہ کو زدوکوب کر کے زخمی کیا اور دھمکیاں بھی دیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ 4 سالہ اسحاق فائرنگ کرتا ہے، لوگوں کو دھمکیاں بھی دیتا ہے، پولیس نے بچے کو عدالت میں پیش کردیا۔

اسحاق اپنے باپ کی گود میں بیٹھ کرملزم کی حیثیت میں پیش ہوا، بچے کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ تھانہ چوہنگ پولیس نے مدعی مقدمہ کی بے بنیاد درخواست پر دھمکیاں دینے اور ہوائی فائرنگ کے الزام میں کمسن بچے اسحاق کو جان بوجھ کر ملوث کیا ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی دیگر5رشتے داروں کو اس میں ملوث کیا گیا ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ بچے کی عبوری ضمانت منظور کی جائے جس پر عدالت فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد کم سن ملزم کی عبوری ضمانت منظور کر لی۔

ایڈیشنل سیشن جج نے کمسن بچے پر مقدمہ درج کرنے پر برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے سترہ اکتوبر تک ضمانت قبل از گرفتاری منظورکرلی اور پولیس سے تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں