دہری شہریت کیس: نومنتخب 4 سینیٹرز کے نوٹیفکیشن روک دیے گئے: Supreme court
The news is by your side.

Advertisement

دہری شہریت کیس: سپریم کورٹ‌ نے چار نومنتخب سینیٹرز کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روک دیے

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے دہری شہریت کے باعث چار نومنتخب سینیٹرز کی کامیابی کے نوٹیفکشن روک دیے اور ان سے وضاحت طلب کر لی۔

تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ میں دہری شہریت کیس سے متعلق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ چار سینیٹرز دہری شہریت کے حامل ہیں، جن میں سعدیہ عباسی، ہارون اختر، نزہت صادق، چوہدری سرور شامل ہیں۔

سینیٹ انتخابات: ن لیگ کے حمایت یافتہ 15، پیپلزپارٹی کے 12، پی ٹی آئی کے 6 امیدوار کامیاب

اس موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹرز کو پہلے مطمئن کرنا ہوگا کہ وہ دہری شہریت ترک کر چکے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو چاروں سینیٹرز کے نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روکتے ہوئے حکم دیا کہ کیس کے فیصلے تک الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری نہ کرے۔

خیال رہے کہ نومنتخب سینیٹرز میں سے چوہدری سرور کا تعلق پاکستان تحریک انصاف جبکہ ہارون اختر، نزہت صادق اور سعدیہ عباسی کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور چاروں افراد پنجاب سے سینیٹرز منتخب ہوئے ہیں۔

تجزیہ کار اس نوٹیفکیشن کو مسلم لیگ ن کے لیے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ عدالتی فیصلے میں میاں نواز شریف کے بہ طور پارٹی سربراہ نااہل ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے آزاد حیثیت میں حصہ لیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات کے نتائج جاری کردیے

دوسری جانب چوہدری سرور کا وضاحتی بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ میں نے گورنر بننے سے پہلے ہی لندن کی شہریت چھوڑ دی تھی، میرے متعلق تمام خبریں من گھڑت ہیں، میں نے دہری شہریت سے متعلق ثبوت میڈیا کو جاری کردیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں