The news is by your side.

Advertisement

44 ہزار سال پرانی پینٹنگ نے ماہرین کو حیران کردیا

انڈونیشیا کے ایک غار سے ایک پینٹنگ دریافت ہوئی ہے جسے اب تک معلوم انسانی تاریخ کی اولین ترین پینٹنگ قرار دیا جارہا ہے۔

یہ پینٹنگ انڈونیشیا کے جزیرے سلوویسی سے دریافت ہوئی ہے، پینٹنگ سنہ 2017 میں دریافت کی گئی تھی اور اس کا تحقیقاتی کام اب مکمل ہوا ہے جس کے بعد علم ہوا کہ یہ 44 ہزار سال پرانی ہے۔

غار میں کندہ اس فن پارے میں ایک بھینس نظر آرہی ہے اور انسان اور جانور کے دھڑ پر مشتمل کچھ جاندار ہیں جنہوں نے نیزے اور ممکنہ طور پر رسیاں پکڑ رکھیں ہیں اور وہ اس بھینس کا شکار کر رہے ہیں۔

فن پارے پر شکار کے انداز سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے یہ شکار کا کوئی مقابلہ منعقد کیا جارہا ہے۔

اسے دریافت کرنے والے آسٹریلوی و انڈونیشین ماہرین کے مطابق یہ منظر دنیا کی سب سے پرانی کہانی ہو سکتی ہے جسے ریکارڈ کیا گیا، اس کی عمر ممکنہ طور پر 44 ہزار سال ہے۔

اس سے قبل معلوم تاریخ کا سب سے قدیم فن پارہ جرمنی کے ایک غار میں دریافت ہونے والے نقوش کو مانا جاتا ہے جن کی عمر اندازاً 40 ہزار برس ہے۔

ماہرین کے مطابق اس علاقے میں غاروں میں بنے فن پارے پہلی بار سنہ 1950 میں دریافت ہوئے جب 242 غاروں کو مختلف تصاویر اور نقوش سے مزین پایا گیا۔

ان قدیم نقوش کے خراب ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ دھول، مٹی، نمک، دھواں اور جراثیم ان نقوش کو خراب کرنے اور مٹانے کا سبب بن رہے ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ نقوش غائب ہوگئے تو یقیناً یہ انسانی ثقافت کا ایک بڑا نقصان ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں