اسلام آباد (14 نومبر 2025): پاکستان میں رواں برس 2025 کی تین سہ ماہی جنوری تا ستمبر 53 لاکھ سائبر حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی پر کام کرنے والے عالمی ادارے کیسپرسکی نے دنیا بھر میں سائبر حملوں سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے۔ اس کے مطابق پاکستان میں رواں برس کی تین سہ ماہیوں یعنی جنوری سے ستمبر تک 53 لاکھ سائبر حملے رپورٹ کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں فشنگ، بوٹ نیٹ اور جعلی وائی فائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں 27 فیصد صارفین میل ویئر حملوں کا شکار ہوئے۔ 24 فیصد کارپوریٹ اداروں کو متاثرہ ڈیوائسز سے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس مدت کے دوران 25 لاکھ سے زائد ویب بیسڈ سائبر حملے ناکام بنائے گئے جب کہ 3 لاکھ 54 ہزار ایکسپلائٹ اٹیمپٹس کیسپرسکی نے بلاک کر دیں۔
اس کے علاوہ ایک لاکھ 66 ہزار بینکنگ میل ویئر حملے روکے گئے اور اسپائی ویئر کے ایک لاکھ 26 ہزار حملے ناکام بنائے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں رینسم ویئر کے 42 ہزار حملے رپورٹ ہوئے اور سائبر حملوں کے ذریعہ ہائی ویلیو اہداف نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ واٹس ایپ اور خفیہ دستاویزات کی چوری کیلیے جدید طریقے استعمال کیے گئے۔
یہ بھی انکشاف سامنے آیا کہ پاکستان پر سات مختلف اے پی ٹی گروپس نے سائبر حملے کیے۔ ہیکرز نے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس نہ ہونے سے ون رار، آفیس، VLC میں کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا اور مِسٹریئس ایلیفینٹ‘ گروپ کی حساس اداروں پر ٹارگٹڈ مہم کی گئی۔
کیسپرسکی نے اپنی اس رپورٹ میں کہا ہے کہ اداروں کیلیے EDR اور XDR سیکیورٹی حل انتہائی ضروری ہے جب کہ انفرادی افراد بنیادی سائبر ہائجین اپنائی اور سسٹمز اپ ڈیٹ کریں۔
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں


