The news is by your side.

Advertisement

پانچ جولائی – پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن

پاکستان کی پہلی منتخب حکومت کا تختہ الٹےآج اڑتیس سال بیت گئے ہیں،5 جولائی 1977 کوجنرل ضیا ءالحق نے سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو برطرف کرکےملک میں تیسرا مارشل لاء نافذ کیا تھا۔

جنرل ضیا الحق

 

اخباری شہہ سرخیاں
جنرل ضیا الحق کے حکم نامے کا عکس

سن 1977 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد جنرل ضیاء الحق نے5 جولائی کوملک میں مارشل لاء نافذ کیا اورپاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذولفقارعلی بھٹو کو جیل میں قید کردیا اور بعد ازاں تختہ دار پرلٹکادیا گیا۔

سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو

آئین کی معطلی اورذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے ملک کی سیاسی بنیادیں ہل گیئں اورگیارہ سال تک عوام پہ طویل آمرانہ قیادت مسلط کردی گئی جس کے دورِ حکومت میں جمہوریت پسندوں پرجیلوں میں کوڑے برسائے گے۔

جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کرتے ہوئے ملک میں 90 روز میں انتخابات کے انعقاد کا وعدہ کیا تھا جو کہ آٹھ سال کے طویل انتظار کے بعد وفا ہوا۔

سن 1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پرانتخابات کرائے گئے لیکن اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجوکو بھی جنرل ضیاء نے گھربھیج دیا۔

جنرل ضیاء کا آمرانہ دورِحکومت 17 اگست1988 کو بہاولپور کے نزدیک ایک فضائی حادثے کی صورت میں اپنے انجام کو پہنچا۔

حادثے کا منظر

جنرل ضیا الحق کے دورکے اہم واقعات


برطرف وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو 17 اپریل 1979 میں عوامی اور عالمی مخالفت کے باوجود پھانسی کی سزا دے دی گئی۔

دسمبر 1979 میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا جس کے خلاف جنرل ضیا الحق نے افغان جہاد کی شروعات کی اور ملک بھر سے مدرسوں کے ذریعے جہادی بھرتی کرنا شروع کیے۔

سن 1981 میں جنرل ضیا الحق نے پارلیمنٹ پر پابندی عائد کرتے ہوئے مجلسِ شوریٰ تشکیل دی اوراسے ملک کے تمام امورکا نگہبان قراردیا ۔

سن 1984 میں جنرل ضیاء نے ریفرینڈم کے ذریعے صدرمملکت کا عہدہ حاصل کیا۔

سن 1985 میں آٹھ سال پرانا وعدہ وفا کرتے ہوئے غیرجماعتی انتخابات کرائے جس کے نتیجے میں محمد خان جونیجو وزیر اعظم بنے۔

محمد خان جونیجو

مئی 29، 1988 کو محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کردیا۔


#5thJulyBlackDay trends on Twitter


سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کے صارفین نے بھی آج کے دن کی مناسبت سے جنرل ضیا الحق اور ان کے 11 سالہ دورِ حکومت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہارکیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں