The news is by your side.

Advertisement

پانچ سالہ بچے کے ساتھ زیادتی و قتل، لواحقین انصاف کے منتظر

کراچی : اسلام آباد سے گزشتہ سال اغوا اور قتل ہونے والے پانچ سالہ بچے کے لواحقین کو آج تک انصاف نہ مل سکا، ملزمان نے بچے کو زیادتی کے بعد قتل کرکے گھر کے پاس پھینک دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں گزشتہ سال 21 دسمبر 2019کو پانچ سالہ بچے عمر راٹھور کو اغواء کیا گیا تھا، بچے کی تشدد زدہ نعش چار دن بعد محلے سے ہی مل گئی تھی۔

تاہم بعد ازاں ملزمان کو گرفتارکرلیا لیکن ابھی تک ان سفاک ملزمان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاسکا، بچے کا والد مختار راٹھور انصاف کے حصول کیلئے عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے لیکن قانونی پیچیدگیوں اور وکلاء کی کارکردگی کے باعث ابھی تک ان ملزمان پر فرد جرم بھی عائد نہیں کی جاسکی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹر میں میزبان صابر شاکر سے گفتگو کرتے ہوئے بچے کے والد کا کہنا ہے کہ ملزمان کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر مجھ کو اور میرے گھر والوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

واضح رہے کہ بہاولپور میں انصاف ملنے میں تاخیر پر مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی نے زہریلی دوا پی کر خودکشی کرلی، متوفیہ کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ بیٹی کو لقمان نامی ملزم نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ شکایت لے کر تھانہ گئے تو انہوں نے پولیس چوکی پر بھیج دیا، پولیس جائے وقوعہ گئی پھردونوں فریقین کو چوکی پربلایا۔

لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ بیٹی نے رات کو خود کشی کی اور کہا کہ ابا آپ سراٹھا کر جیو گے، واقعہ سامنے آنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیا ہے ملزم لقمان کو گرفتار کرلیا ہے اورفرائض میں غفلت برتنے والےمتعلقہ تھانے کا ایس ایچ او اور چوکی انچارج بھی پابند سلاسل ہے۔

علاوہ ازیں فیصل آباد کی پیپلزکالونی میں دوران ڈکیتی محنت کش خاتون زیادتی کا شکار بن گئی، دو ملزمان دولاکھ روپے، زیور اور موبائل فون بھی چھین کر لے گئے، پولیس نے ملزمان افتخار اور رمضان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

فیصل آباد ہی میں اجتماعی ذیادتی کا ایک اور واقعہ رپورٹ ہوا، پولیس کا کہنا ہے کہ جھنگ بازار سے لڑکی کو ملزم نعمان نے چارساتھیوں کی مدد سے اسلحہ کے زور پر اغوا کیا اور گھر لےجا کر اجتماعی زیادتی کانشانہ بنایا، لڑکی کے اہلخانہ کے پہنچنے پر ملزمان فرار ہو گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں