اسپین کے والنسیا ایئرپورٹ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 50 سے زائد یہودی مسافروں کو طیارے سے اتار دیا گیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہودی مسافروں کو طیارے سے اتارنے کا واقعہ جولائی کے ماہ میں پیش آیا تھا، جب مسافروں نے عملے کی ہدایات کو نہیں مانا اور عبرانی زبان میں گانے گانا شروع کردیئے۔
رپورٹس کے مطابق طیارے کے عملے نے ان کو دو بار روکنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ نہیں رکے تو پولیس طلب کی گئی اور سب کو طیارے سے اترنے کا حکم دیا گیا۔
والنسیا ائیرپورٹ، اسپین:
53 یہودی مسافر طیارے سے اتار دیے گئے کیونکہ انہوں نے عملے کی وارننگ کے باوجود عبرانی زبان میں گانے گائے۔ یہ گروپ یہودی سمر کیمپ سے واپس آرہا تھا۔ pic.twitter.com/WgxqKQEPwC
— RTEUrdu (@RTEUrdu) September 26, 2025
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیمپ ڈائریکٹر کو زمین پر جھکایا گیا، ہاتھ باندھے گئے اور گرفتار کیا گیا، حالانکہ بعد میں مبینہ طور پر اسے نامکمل دستاویز پر چھوڑ دیا گیا۔
Vueling ایئرلائن کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امتیازی رویہ نہیں بلکہ طیارے میں شور، ایمرجنسی آلات کے استعمال اور بورڈنگ کے دوران عملے کی ہدایات کی خلاف ورزی تھی، یعنی ”بہت زیادہ ڈسٹرب کرنے والا رویہ“ تھا۔جس سے دیگر مسافر پریشان ہورہے تھے۔
اسرائیلی فوجیوں کی ماؤں نے نیتن یاہو کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اسپین کے سول گارڈ نے کہا ہے کہ عملے نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ حکم کی خلاف ورزی کا سلسلہ روک نہیں پارہے تھے، انہیں مذہبی پس منظر کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


