The news is by your side.

Advertisement

1967ء کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچے صہیونی عقوبت خانوں میں ڈالے گئے، رپورٹ

غزہ: فلسطینی امور اسیران کے شعبہ تحقیق و مطالعہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچے صہیونی عقوبت خانوں میں ڈالے گئے۔

تفصیلات کے مطابق فلسطینی امور اسیران کے شعبہ تحقیق و مطالعہ کے چیئرمین عبدالناصر فراونہ نے برسلز میں فلسطینی بچوں کے اسرائیلی زندانوں میں قید کیے جانے کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس کے موقق پر رپورٹ پیش کردی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برسلز میں فلسطینی اسیران کے حوالے سے ہونے والی عالمی کانفرنس کے موقع پر پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 1967ءکی جنگ کے بعد اسرائیل نے 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں جیلوں میں قید کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 16 ہزار 655 فلسطینی بچے 2000ءمیں شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے بعد گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالے گئے۔

’صہیونی ریاست فلسطینی بچوں کو گرفتار کر کے دانستہ طور پر ان کا مستقبل تباہ کرنے کی سازشوں میں سرگرم ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق 2000ء سے 2010ء کے دوران صہیونی فوج سالانہ اوسطا 700 فلسطینی بچوں کو گرفتار کرتی رہی جب کہ 2011ء سے 2018ء کے دوران سالانہ اوسطاً 1250 بچے گرفتار کیے جاتے رہے۔

اسرائیلی فوج کے مظالم جاری،17فلسطینی گرفتار، آٹھ اغواء، گھروں میں لوٹ مار

دوسری جانب فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، ہفتہ وار مظاہرے کے دوران ہمیشہ قابض فوج نہتے فلسطینیوں پر گولیاں برساتے ہیں، اب تک سیکڑوں افراد شہید ہوچکے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں