The news is by your side.

Advertisement

پانچ ہزار کے جعلی نوٹ کی پہچان کیا ہے ؟ ویڈیو دیکھیں

آپ کی جیب میں موجود پانچ ہزار کا نوٹ اصلی ہے یا نقلی؟ اس پہچان کیسے کی جائے؟ اس خبر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ جعلی کرنسی نوٹ کی پہچان کیسے کی جاسکتی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جعلی کرنسی کو پکڑنے اور روک تھام کے لیے بہترین اقدامات کیے ہیں، جعلی نوٹ پکڑنے کے لیے بینک نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ لوگ اس بات کو جانیں کہ کس طرح ایک مشتبہ نوٹ پکڑا جاسکتا ہے۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ڈائریکٹر فنانس اسٹیٹ بینک قادر بخش نے جعلی اور اصلی نوٹ کے فرق کے بارے میں سننے والوں کو آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ نوٹ کو سفید کاغذ پر رگڑ کر دیکھتے ہیں کہ رنگ چھوڑنے یا نہ چھوڑنے سے جعلی نوٹ کا پتا چلتا ہے، دیگر افراد آپ کو قائداعظم کی شیروانی رگڑنے کا مشورہ دیں گے اور وہ سخت ہو تو اسے مستند مان لیں گے۔

کچھ افراد کہیں گے کہ اپنی انگلی کو بڑی مالیت کے نوٹوں کے کونوں پر رگڑیں اور اگر وہ سخت ہو تو نوٹ اصلی ہے۔

ان مشوروں کا بیشتر حصہ درست ہوسکتا ہے لیکن چھوٹے کے مقابلے میں بڑے نوٹ جعلی ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے100، 500، 1000 اور5000 کے ہی زیادہ جعلی نوٹ نظر آتے ہیں۔

کرنسی نوٹ خصوصی کاغذ پر تیار کیے جاتے ہیں جن میں پروڈکشن کے وقت سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جاتے ہیں جبکہ سیکیورٹی دھاگہ اس کاغذ میں اس طریقے سے شامل کیا جاتا ہے کہ اسے کسی صورت باہر نہیں نکالا جاسکتا۔

یہ نوٹ کے سامنے والے حصے کے بائیں جانب ہوتا ہے۔ اگر کسی سطح پر رکھ کر اسے دیکھا جائے تو دھاگہ چھوٹے چھوٹے وقفے کے ساتھ نظر آئے گا لیکن جب اسے روشنی میں دیکھا جائے تو پورا دھاگہ نظر آتا ہے۔ نوٹ کی مالیت دھاگے پر پرنٹ ہوتی ہے۔

اگر آپ کو یہ فیچرز نظر نہ آئیں تو اسے لینے سے گریز کریں، جعل ساز کسی جعلی نوٹ میں یا تو گہری پٹی پرنٹ کردیتے ہیں یا پوری پٹی کاغذ کی دو شیٹوں کے درمیان رکھ دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ نوٹ کو جانچنے کا ایک اور طریقہ قائداعظم کی واٹر مارک تصویر ہے جو سامنے کے حصے میں بائیں جانب ہوتی ہے، جب کسی سطح پر رکھ کر دیکھا جائے تو ہلکا سفید خاکہ نظر آنے لگتا ہے۔

نوٹ کو روشنی میں دیکھا جائے تو قائداعظم کی تصویر کرنسی مالیت کے ساتھ نظر آتی ہے، واٹر مارک پرنٹ نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے کاغذ کی موٹائی میں تبدیلی لاتے ہوئے تخلیق کیا جاتا ہے۔

اگر آپ اپنی انگلی نئے نوٹ کے کاغذ کی سطح پر رگڑیں تو آپ کو سطح میں تبدیلی کا احساس ہوگا، اگر آپ کوئی بھی چیز ان باتوں سے ہٹ کر محسوس کریں تو نوٹ کو لینے سے انکار کردیں، جعل ساز واٹر مارک کو تخلیق کرنے کی بجائے پرنٹ کرتے ہیں۔

اگر آپ نوٹ کے کناروں کو ایک دوسرے سے الگ دیکھیں تو اسے لینے سے انکار کردیں۔ کیونکہ حقیقی نوٹ استعمال کے دوران کبھی بھی دو حصوں میں تقسیم نہیں ہوتا اور جعل ساز جعلی نوٹ بناتے ہوئے آگے اور پیچھے کے حصوں کو پرنٹ کرکے گلو سے جوڑتے ہیں۔

حقیقی کرنسی نوٹ کا رنگ الٹراوائلٹ روشنی میں کبھی نہیں بدلتا، یہ جعلی کرنسی کو جانچنے کا بنیادی طریقہ ہے کہ سیاہ روشنی یا الٹرا وائلٹ روشنی نوٹوں کے بنڈل پر ڈالی جائے اور اگر آپ کسی نوٹ کو چمکتے ہوئے دیکھیں تو اسے مسترد کردیں۔

ایک اصلی نوٹ سادہ سفید کاغذ کی شیٹ پر رکھیں اور لائٹس بند کرکے اس پر الٹراوائلٹ یا سیاہ روشنی ڈالیں جس سے اچانک ہی سفید کاغذ ہلکی نیلگوں روشنی میں جگمگانے لگے گا جبکہ کرنسی نوٹ کا رنگ تبدیل نہیں ہوگا۔

کاغذ کی طرح کرنسی نوٹوں کی پرنٹنگ کا طریقہ کار بھی خاص ہوتا ہے اور اس میں متعدد سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جاتے ہیں جس سے آپ کے لیے جعلی نوٹوں کی شناخت کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

پرنٹنگ کے لیے خصوصی سیاہی کو استعمال کیا جاتا ہے جو بھیگنے سمیت کسی بھی صورت خراب نہیں ہوتی۔ جعلی نوٹوں کی سیاہی عام طور پر گیلی ہونے کے بعد پھیل جاتی ہے.

اگر آپ کو کسی نوٹ پر شبہ ہو تو اس کا وہ حصہ ڈبو دیں جہاں زیادہ سیاہی استعمال ہوتی ہے اور پھر انگلی سے رگڑیں، اگر وہ خراب نہ ہو تو نوٹ اصلی ہے دوسری صورت میں جعلی۔

تیکنیکی طور پر سیاہی کو کاغذ پر قائداعظم کی ابھری ہوئی شیروانی اور نوٹ کے کناروں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کو اس حوالے سے یہ جاننے اور دیکھنے کی ضرورت ہے۔

نوٹ چاہے جتنا بھی پرانا ہو مگر قائداعظم کی شیروانی ہمیشہ ہاتھ پھیرنے پر ابھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ نوٹ کے کنارے پر موجود لکیریں صرف سامنے کی جانب سے ابھری ہوئی ہوتی ہیں۔

اپنے انگوٹھے کا ناخن سامنے کے حصے کے کنارے پر پھیریں جبکہ شہادت کی انگلی باقی حصے پر رگڑے، اگر آپ کو ابھرا ہوا یا کھوکھلا حصہ محسوس ہو تو وہاں روک جائیں اور روشنی میں دیکھنے پر آپ کو چھیدنے کے نشانات نظر آجائیں گے۔

جعل ساز سامنے کے جانب ناہمواری کا اثر پیدا کرتے ہوئے نوٹوں پر سوئی سے چھیدنے کے نشانات بناتے ہیں۔ نوٹ کے سامنے کی بائیں جانب لکیریں سی ہوتی ہیں مگر یہ لائنز فوٹو کاپی یا اسکین اور پھر پرنٹ کیے جانے کی صورت میں جادوئی انداز میں غائب ہوجاتی ہیں، لہذا اگر یہ لکیریں نوٹ پر نہ ہو تو جان لیں کہ وہ جعلی ہے۔

پانچ سو، ایک ہزار اور پانچ ہزار والے نوٹوں پر جھنڈے مختلف پہلوﺅں سے دیکھنے پر اپنی رنگت بدل لیتے ہیں۔ اگر جھنڈا اپنا رنگ نہ بدلے تو وہ نوٹ جعلی ہے۔

ایک نوٹ پر قائداعظم کی تصویر کے قریب مالیت کا ہندسہ چھپا ہوتا ہے، اس چھپے ہوئے ہندسے کی تصویر کو دیکھنے کے لیے نوٹ کو روشنی کے سامنے لاکر دیکھیں وہ ہندسہ جادوئی انداز میں نمودار ہوجائے گا۔ نوٹوں کا ہندسہ اردو رسم الخط میں نوٹ کے بائیں جانب اوپر پرنٹ ہوتا ہے۔

جب آپ کسی سطح پر نوٹ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ ہندسہ نامکمل اعداد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب نوٹ کو اٹھا کر دیکھا جائے اور اس پر سے روشنی آر پار ہو تو یہ ہندسہ مکمل نظر آتا ہے۔

جعل ساز یہ فیچر گہری اور ہلکے رنگوں میں پرنٹنگ کے ذریعے شامل کرتے ہیں مگر ہاتھ میں اٹھا کر دیکھنے کی صورت میں یہ جعلی نوٹ اصل کی طرح تبدیل نہیں ہوپاتا۔

کرنسی نوٹوں میں مزید متعدد فیچرز بھی اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر دیکھے جاسکتے ہیں جن کو چیک کرنے پر آپ نوٹوں کی شناخت کرسکتے ہیں۔

قانون کے مطابق اگر آپ بینک کو ایک جعلی نوٹ پکڑ کر دیں تو یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر اس پر منسوخ کی مہر لگا دیں اور اس نوٹ کو اپنے پاس رکھے۔

بینکوں کے پاس یہ اختیار بھی ہوتا ہے کہ وہ متعلقہ حکام کو اس صورت میں اطلاع کرے جب اسے کسی فرد پر دانستہ جعلی کرنسی کو پھیلانے کا شبہ ہو، جس کے نتیجے میں ملزمان کو جرمانے اور قید کی سزائیں سنائی جاسکتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں