کراچی (9 اگست 2026): ون ڈے کرکٹ نے 5000 میچوں کا تاریخی سنگ میل عبور کر لیا اس سفر میں کئی نا قابل فراموش میچز کھیلے گئے اور ریکارڈ بنے۔
کرکٹ کی تاریخ تو تقریباً ڈیڑھ صدی پرانی ہے تاہم ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ 55 سال پرانی ہے۔
پہلا ایک روزہ میچ 5 جنوری 1971 کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان حادثاتی طور پر اس وقت میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں اس وقت کھیلا گیا، جب ایشز ٹیسٹ میچ کے ابتدائی دن بارش کی نذر ہونے کے بعد شائقین کی دلجوئی کے لیے اسے ون ڈے میچ میں تبدیل کیا گیا تھا اور یہ میچ آسٹریلیا نے 5 وکٹوں سے جیتا تھا۔
55 سال اور 7 ماہ بعد پانچ ہزاروں ون ڈے انٹرنیشنل میچ کینیڈا اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان کھیلا گیا۔
پہلے سے 5 ہزاروں ون ڈے انٹرنیشنل میں اس فارمیٹ کی کرکٹ نے کئی سپر اسٹارز بنائے۔ شائقین کو دلچسپ اور سنسنی خیز میچز دیکھنے کو ملے اور کئی نا قابل فراموش عالمی ریکارڈز بنے۔
ٹوٹتے بنتے ریکارڈ، جذباتی لمحے اور بڑی کامیابیاں۔ سنسنی خیزی نے ون ڈے کرکٹ کے ہر میچ کو اپنی مثال آپ بنایا۔
ون ڈے کرکٹ کی شروعات سفید کپڑوں اور 60 اوورز فی اننگز سے ہوئی۔ وقت کے ساتھ کٹس اور فارمیٹ میں جدت آئی۔
1992 میں کھلاڑی پہلی بار رنگین جرسیاں پہن کر میدان اترے اور شائقین کرکٹ نے 60 کے بجائے 50 اوورز پر مشتمل ایک روزہ میچز دیکھے۔
شائقین کرکٹ نے بوم بوم آفریدی کی 37 گیندوں پر دھواں دھار سنچری دیکھی جس نے دو دہائی سے زائد عرصے تک سب سے تیز رفتار سنچری کا اعزاز اپنے پاس رکھا۔
سری لنکن پیسر چمندا واس کا 8 وکٹوں کا کارنامہ، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے تاریخی مقابلے میں 434 رنز کا پہاڑ جیسا ریکارڈ ہدف حاصل کرنا، ہرشل گبز کے لگاتار 6 چھکے، اور منفرد بولنگ اسٹائل کے مالک مالنگا کی ریکارڈ تین ہیٹ ٹرکس نے کرکٹ کو سنسنی خیز بنایا۔
لیجنڈری سچن ٹنڈولکر ون ڈے کرکٹ میں ڈبل سنچری بنانے والے پہلے بیٹر بنے تو ڈی ویلیئرز نے تیز ترین سنچری کا آفریدی کا ریکارڈ توڑنے کے ساتھ ساتھ تیز ترین ففٹی بھی بنائی۔
جونٹی روڈز کی فیلڈنگ لاجواب، میکسویل کی تاریخ ساز اننگز اور کئی نا قابل فراموش یادیں ون ڈے کرکٹ سے وابستہ ہیں۔
کرکٹ کا کھیل دن کی روشنی سے نکل کر فلڈ لائٹس میں آیا۔ ایشز کی مسابقت کی طرح ون ڈے میں پاک بھارت ٹاکرے نے ماحول کو گرمایا۔


