The news is by your side.

Advertisement

خیبرپختون خوا قتل و غارت کے بڑھتے واقعات، آئی جی نے عدالت کو کیا بتایا؟

پشاور: خیبرپختون خوا کے دارالحکومت اور دیگر اضلاع میں بڑھتے ہوئے قتل کے واقعات پر پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس قیصر رشید خان نے نوٹس لے کر آئی جی کو طلب کیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس قیصر رشید خان نے گزشتہ کچھ دنوں میں پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں بڑھتی ہوئی قتل و غارت گیری کا نوٹس لیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے نوٹس لے کر آئی جی پولیس معظم جاء اور سی سی پی او عباس احسن کو عدالت میں طلب کیا۔

پولیس افسران سے استفسار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ’آئی جی صاحب، کچھ دنوں سے جو واقعات ہورہے ہیں، اُس پر آپ کو بلایا ہے، ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے سارا معاشرہ مجرم ہوگیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ دن 15 قتل کے واقعات ہوئے، اُس سے ایک روز قبل 17 قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے اور ان میں زیادہ واقعات پشاور سے تھے،  ایسا لگ رہا ہے جیسے لوگوں کی قربانی ہورہی ہے‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ایسے واقعات سے معاشرے میں خوف پیدا ہوتا ہے، روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں‘۔

آئ جی معظم جاء نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انھوں نے ابھی حال ہی میں آفس جوائن کیا، ایسے واقعات افسوسناک ہے اور ان کی روک تھام کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں، جتنے بھی واقعات ہوئے وہ جائیداد کے تنازع یا پرانی دشمنی کا شاخسانہ تھے مگر ان کی بنیادی وجوہات جاننے کی ضررورت ہے۔

آئی نے کہا کہ ’پرتشدد واقعات کی بنیادی وجوہات جاننے کی ضرورت ہے, ہم ڈی آر سی کو مزید فعال کررہے ہیں تاکہ ایسے کیسز کو نمٹائے اور  معاملہ خوں ریزی تک نہ جائے‘۔

جسٹس سید عتیق شاہ نے ریمارکس دیئے کہ انویسٹی گیشن کمزور ہونے کہ وجہ سے کیسز خراب ہوتے ہیں، اس کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

آئی جی پی نے کہا کہ ہم انویسٹی گیشن کے ساتھ پراسیکوشن کو بھی بہتر بنارہے ہیں، ایسے اقدامات کا آغاز جلد ہوگا تاکہ واقعات کی روک تھام ہوسکے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں