The news is by your side.

Advertisement

چار سالہ حریم کا قتل: ’بیٹی پہلی بار گھر سے اکیلی نکلی اور یہی آخری بار ثابت ہوا‘

کوہاٹ: خیبرپختونخواہ کے ضلع کوہاٹ میں تین روز قبل لاپتہ ہونے والی چار سالہ بچی کی نالے کے قریب سے لاش برآمد ہوئی ہے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مقتولہ حریم فاطمہ کے والد فرہاد حسین نے بتایا کہ وہ کوہاٹ کے علاقے خٹک کالونی کے رہائشی ہیں، اُن کی صاحبزادی تین روز قبل گھر سے چیز لینے کے لیے باہر نکلی اور پھر لاپتہ ہوگئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اہل خانہ نے اپنی مدد آپ کے تحت بچی کی تلاش شروع کی مگر ناکامی کا سامنا رہا، صبح بچی لاش نالے سے برآمد ہوئی۔ والد کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کی موت کی وجہ پانی میں ڈوبنا نہیں بلکہ ’وہ‘ تھی۔

انہوں نے کہا کہ لاش ملنے کے بعد علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا تو مقامی پولیس کو ہوش آیا اور پھر انہوں نے اقدامات شروع کیے۔

فرہاد حسین کے مطابق ڈی آئی جی نے اُن سے رابطہ کر کے 72 گھنٹوں میں قاتلوں کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے بعد بچی کی تدفین آبائی گاؤں کرک میں آج کردی گئی۔

انہوں نے مطالبہ کیاکہ بیٹی کو اغوا اور قتل کرنے والے سفاک ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ فرہاد حسین نے شکوہ کیا کہ حکومتی شخصیات میں سے کسی نے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا۔

فرہاد حسین نے کہا کہ ’ہماری تو کسی سے کوئی دشمنی نہیں، بیٹی پہلی بار گھر سے اکیلی نکلی اور یہی آخر بار ثابت ہوا، پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے دکانداروں کے بیانات قلم بند کیے ہیں‘۔

دوسری جانب پولیس حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ والد کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ کے تحت مقدمہ  درج کرلیا گیا ہے۔ صدر تھانے کے پولیس افسر نے اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے قتل میں ملوث عناصر کو سخت سزا دینے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے ’حریم کو انصاف دو‘ کے نام سے ہیش ٹیگ بھی چلایا۔

صارفین نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس طرح کے واقعات کی روک تھام کےلیے اپنا کردار ادا کرے اور ملوث ملزمان کو سخت سزا دے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں