The news is by your side.

Advertisement

’والد کو دو تین روز قبل اپنی موت کا اندازہ ہوگیا تھا‘

ممبئی: بالی ووڈ کے ورسٹائل اداکار عرفان خان کے بیٹے نے انکشاف کیا ہے کہ والد کو انتقال سے دو تین روز قبل ہی اپنے رخصت ہونے کا اندازہ ہوگیا تھا۔

بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں عرفان خان کے صاحبزادے بابیل نے  والد سے آخری ملاقات اور گفتگو کے حوالے سے کھل کر بات کی اور وہ پہلی بار اُسے منظر عام پر لے آئے۔

انہوں نے بتایا کہ ’والد نے انتقال سے دو تین روز قبل بتا دیا تھا کہ وہ اب زیادہ دن تک زندہ نہیں رہیں گے‘۔

بابیل نے بتایا کہ ’والد کی موت سے دو تین روز قبل جب اُن کی طبیعت خراب تھی تو میں اسپتال میں ہی موجود تھا، وہ آہستہ آہستہ اپنا ہوش کھو رہے تھے‘۔

’والد نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور آخری بات یہ کہی کہ اب میں مرنے والا ہوں‘۔ بابیل نے بتایا کہ والد کی بات سُن کر میں نے اُن کا ہاتھ تھاما اور امید دلائی کہ’ آپ کو کچھ نہیں ہوگا‘ مگر انہوں نے ’مجھے دیکھتے ہوئے مسکرا کر دوبارہ یہی بات دہرائی اور پھر وہ سو گئے‘۔

مزید پڑھیں: عرفان خان کی قبر پر لہلہاتے پھولوں نے مداحوں کو پھر سے غمزدہ کردیا

واضح رہے کہ عرفان خان کا انتقال گزشتہ برس ہوا، موت سے چند گھڑی قبل انہوں نے اہلیہ اور بیٹے سے اسپتال میں آخری ملاقات اور گفتگو کی تھی۔

عرفان خان نے اپنی اہلیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے میرا کام ہوگیا، میں ہار گیا ہوں، دیکھو اماں کمرے میں موجود ہیں، وہ میرے پاس ہی ہیں مجھے لے کر جائیں گی‘۔

اس گفتگو کو سُن کر سوتاپا (اہلیہ عرفان خان) فرط جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور انہوں نے زاروقطار رونا شروع کردیا تھا، اسی دوران عرفان خان کی طبیعت خراب ہوئی اور ڈاکٹرز نے ایک گھنٹے بعد اُن کی موت کی تصدیق کی۔

یاد رہے کہ عرفان خان کی والدہ کا سیدہ خاتون کا انتقال  25 اپریل 2020 کو راجستھان میں ہوا، اداکار لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی والدہ کی تدفین میں شرکت نہیں کرسکے تھے جس کا انہیں بہت زیادہ دکھ تھا۔

عرفان خان نے اسکائپ کے ذریعے اپنی والدہ کا آخری دیدار کیا اور تدفین کا مرحلہ بھی اسی طرح دیکھا۔ انہوں نے اپنے دوستوں اور اہل خانہ سے  جنازے میں شرکت نہ کرنے کے کرب کا اظہار کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ بہت زیادہ تکلیف میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عرفان خان اپنے بچوں کو اکثر کیا نصیحت کرتے تھے؟

والدہ کے انتقال کے تین روز بعد عرفان خان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی تھی جس کے بعد انہیں ممبئی کے کوکیلابین دھیروبھائی امبانی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا اور پھر 29 اپریل کو وہ دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں