The news is by your side.

Advertisement

سائنسی دنیا کی ایک اور اہم ایجاد، مستقبل میں کائی والے کپڑے پہننے جائیں‌ گے!

ایمسٹرڈیم: ہالینڈ کے ماہرین نے پانی کی تہہ میں جمنے والی کائی کی مدد سے  دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار کرلیا۔

سائنسی جریدے ایڈوانسڈ فنکشنل میٹریلز کی رپورٹ کے مطابق نیدرلینڈ کی یونیورسٹی آف راکیسٹر کے ماہرین نے جوہڑوں، تالابوں اور سمندری پتھروں پر جمنے والی کائی کو استعمال کر کے دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار کرلیا۔

ماہرین نے اس دریافت کو اہم قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ مضبوط، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا ہوگا، جسے دیکھ کر پہچاننا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ماہرین کائی کو فوڈ سپلیمنٹ کے طور پر استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کرچکے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کائی سے تیار ہونے والے لباس فیشن کا حصہ ہوں گے اور لوگ انہیں بہت شوق سے استعمال کریں گے کیونکہ یہ عام کپڑوں کے مقابلے میں کم قیمت ہوں گے۔

ماہرین نے اس ایجاد کے حوالے سے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کائی اور بے جان بیکٹیریل سیلولوز کے ملاپ کی مدد سے ایک ایسا انوکھا مادہ تیار کیا گیا ہے، جو کائی کے فوٹو سینتھیسز معیار اور بیکٹریل سیلولوز جیسی مضبوطی کا حامل ہے ، اس کی مدد سے کپڑوں کے علاوہ مصنوعی پتے اور کھال بھی تیار کی جاسکتی ہے۔

تحقیقی ٹیم کی سربراہ کانتھ بالا سبر مینیئن کا کہنا تھا کہ ’سہہ جہتی پرنٹنگ جاندار فنکشنل مادوں کی بناوٹ کے لیےایک طاقت ور ٹیکنالوجی ہے، کائی پر پرنٹ کرنے کے لیے تھری ڈی پرنٹر اور نئی بایو پرنٹنگ تیکنک استعمال کی گئی ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں