The news is by your side.

Advertisement

سابق موساد چیف کا ایران کے جوہری راز چرانے سے متعلق اہم انکشاف

تل ابیب: اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے انٹرویو کے دوران ایران کے جوہری راز چرانے سے متعلق اہم انکشاف کردئیے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے سرکاری ٹیلی ویژن کو دئیے گئے انٹرویو میں سابق موساد چیف نے ایران کے جوہری راز چرانے سمیت ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل اور ایران کے نطنز جوہری مرکز پر ہونے والے حملے میں موساد کے ملوث ہونے کا اشارہ دے دیا۔

انٹرویو کے دوران یوسی کوہن نے رواں سال اپریل میں ایران کے نطنز جوہری مرکز پر ہونے والے حملے کے سوال پر بتایا کہ وہ اس جگہ کو اتنی اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کسی کو اس جگہ لے کر جاسکتے ہیں جہاں سینٹری فیوجز موجود ہیں۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق یوسی کوہن نے بتایا کہ اس آپریشن کے لیے دو سال تک تیاری کی گئی تھی اور میں موساد کے 20 ایجنٹس تھے جن میں سے کوئی بھی اسرائیلی شہری نہیں تھا، آپریشن کی نگرانی خود موساد چیف نے کی اور ایجنٹس نے ایران کے ایک خفیہ ویئر ہاؤس میں داخل ہوکر وہاں موجود 30 سیف توڑ کر دستاویزات حاصل کیں اور اسے ایران سے باہر بھیجنے میں کامیاب رہے۔

سابق موساد چیف نے گذشتہ سال نومبر میں ہونے والے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل پر بھی بات کی جس کا ذمہ دار ایران نے اسرائیل کو قرار دیا تھا۔

یوسی کوہن نے محسن فخری زادہ کے قتل میں موساد کے ملوث ہونے کی نہ تو تردید کی اور نہ ہی اس کا اقرار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے ہماری نظر میں تھے اور ان کی سائنسی معلومات پر موساد کو تشویش تھی۔

واضح رہے کہ یوسی کوہن حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں اور ان کی جگہ موساد کے نئے چیف نے سنبھالی ہے ، 2015 میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی کا چیف تعینات ہونے والے کوہن نے دوران انٹرویو انکشاف کیا کہ دوران ملازمت ان کے پاس 100 سے زائد ممالک کے پاسپورٹ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 2018 میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے انکشاف کیا تھا کہ ان کے پاس ایران کے ایٹمی پروگرام کی تازہ اور حساس معلومات ہیں جو کہ ان کے خفیہ اداروں نے حاصل کیے ہیں اور ان دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہے تاہم ایران کی جانب سے اس کی تردید کی گئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں