The news is by your side.

Advertisement

کیا ’آنسو‘ سے کورونا پھیل سکتا ہے؟

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر میں ویکسینیشن لگائی جارہی ہے، سائنس دان بھی یہ معلوم کرنے کے مختلف تحقیق کررہے ہیں کہ کورونا کن کن چیزوں سے پھیل سکتا ہے۔

اب ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ آنسو کے ذریعے بھی کورونا انفیکشن ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچ سکتا ہے۔

بہر حال، امرتسر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج نے ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سانس کے علاوہ کچھ دیگر ذرائع سے بھی کورونا کے پھیلنے کے خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

تحقیق کے مطابق پازیٹو مریضوں کے آنسوؤں میں کووڈ-19 کی موجودگی کا جائزہ اور موازنہ کیا گیا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج نے 120 کورونا مریضوں پر تحقیق کی ان میں سے 60 کو آکیولر مینی فسٹیشن تھا اور 60 کو نہیں تھا۔ 41 مریضوں کو کنجکٹائیول ہائپریمیا، 38 کو فولیکولر ریکشن، 35 کو کیموسس، 20 کو میوکوئڈ ڈسچارج اور 11 کو ایچنگ کی دقت تھی۔

یہ پڑھیں: ایک فرد کے ویکسین لگوانے سے اہل خانہ کو کس حد تک کورونا سے تحفظ ملتا ہے؟

تقریباً 37 فیصد شرکا میں آکیولر مینی فسٹیشن کے ساتھ ہلکا کووڈ-19 انفیکشن تھا، جب کہ تقریباً 63 فیصد کو سنگین انفیکشن تھا۔ دوسرے گروپ میں تقریباً 52 فیصد مریضوں کو ہلکی بیماری تھی اور 48 فیصد سے زیادہ کو سنگین بیماری تھی۔

اس تحقیق کے لیے مریض کی آر ٹی پی سی آر رپورٹ آنے سے 48 گھنٹوں کے اندر آنسو کے نمونے لیے گئے۔ آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کو کورونا کے لیے سب سے بہتر ٹیسٹ مانا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر 120 میں سے 21 مریضوں کے آنسو آر ٹی پی سی آر میں کورونا پازیٹو تھے، ان میں سے 11 مریضوں کو آکیولر مینی فسٹیشنز تھا، جب کہ 10 کو ایسی کوئی دقت نہیں تھی۔

مزید پڑھیں: کرنسی نوٹوں سے کرونا وائرس پھیلنے میں کتنی سچائی؟

پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر پریم پال کور، ڈاکٹر گورانگ سہگل، ڈاکٹر شیل پریت، کے ڈی سنگھ اور بھاوکرن سنگھ کے ذریعہ کی گئی اس تحقیق میں پایا گیا کہ آنسو دیکھ بھال میں لگے میڈیکل اسٹاف کے لیے انفیکشن کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج کے بعد ایسی ڈیوٹی کر رہے لوگوں سے مزید احتیاط برتنے کو کہا گیا، خصوصی طور پر ماہر چشم (آنکھوں کے ڈاکٹر) کو زیادہ احتیاط کا مشورہ دیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں