The news is by your side.

Advertisement

دماغی بیماری کی چوبیس گھنٹے میں‌ تشخیص ممکن، طب کی دنیا میں‌ اہم دریافت

لندن: برطانوی ماہرین نے نئی  مصنوعی انٹیلی جنس (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کی مدد سے دماغی بیماری ’ڈیمنشیا‘ کی ایک دن میں تشخیص کا طریقہ کار تلاش کرلیا۔

برطانوی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے چوبیس گھنٹے میں ڈیمنشیا کی بیماری کی تشخیص کا طریقہ کار دریافت کرلیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے صرف متاثرہ شخص کے دماغ کو اسکین کر کے بیماری کی نوعیت اور تشخیص کی جاسکے گی۔

طبی و تحقیقی ماہرین نے نئے طریقے کو ڈیمنشیا سے متاثر افراد کے لیے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’دماغی بیماری کی بروقت تشخیص سے متاثرہ شخص کی زندگی کو بہتر کیا جاسکتا ہے‘۔

یاد رہے کہ برطانیہ اُن ممالک میں سرفہرست ہے جہاں دماغی بیماری سے سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں، حال ہی میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ برطانیہ میں اس وقت ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب شہری اسی بیماری کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں: یادداشت کو متاثر کرنے والے مرض ڈیمینشیا کے حوالے سے نیا انکشاف

کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے بھی اس طریقہ تشخیص کو حوصلہ افزاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس کی مدد سے مریض کو بروقت اور بہتر علاج کی سہولیات فراہم کی جاسکیں گی‘۔

’ڈیمنشیا‘  کی بیماری

عام زبان میں اسے بھولنے یا یادداشت متاثر کرنے والی بیماری کہا جاسکتا ہے، جس سے عام طور پر بڑی عمر کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔  ڈیمنشیا الزائمر کی ابتدائی علامات میں سے ایک ہے، جس کے آخری اسٹیج پر انسان کی یادداشت مکمل ختم ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہزاروں افراد لا پتا ہو گئے

ماہرین کے مطابق ذہنی صحت اور یاداشت کو متاثر کرنے والی بیماری ڈیمنشیا کے لاحق ہونے کے خطرات مرد و خواتین میں یکساں ہوتے ہیں۔ مردوں میں یہ بیماری ہائی بلڈ پریشر اور لو بلڈ پریشر یعنی دونوں صورتوں میں لاحق ہونے کے امکانات ہوتے ہیں لیکن خواتین میں یہ مرض صرف ہائی بلڈ پریشر کے باعث ہوتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں