The news is by your side.

Advertisement

طالبان کا افغان صوبے غزنی سمیت 10 اہم شہروں پر قبضہ

کابل: طالبان نے افغانستان کے صوبے غزنی سمیت ایک ہفتے میں 10 اہم شہروں پر قبضہ کرلیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سینئر قانون ساز نے بتایا ہے کہ طالبان نے کابل سے صرف 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر غزنی پر قبضہ کر لیا۔

صوبائی کونسل کے سربراہ ناصر احمد فقیری نے بتایا کہ ’طالبان نے شہر کے کئی اہم علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے جن میں گورنر آفس، پولیس ہیڈ کوارٹرز اور جیل شامل ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا شہر کے کئی مقامات پر لڑائی جاری ہے لیکن صوبائی دارالحکومت کا زیادہ تر حصہ طالبان کے قبضے میں ہے۔

طالبان کے ترجمان نے بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے شہر پر قبضے کی تصدیق کردی۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کابل پر قبضہ کرنے والے ہیں، امریکہ نے خبر دار کردیا

ایک ہفتے سے کم وقت میں طالبان نے 10 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور اب ان کی نگاہیں شمالی کے سب سے بڑے شہر مزار شریف پر ہیں جو روایتی طور پر طالبان مخالف گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

جنوب میں طالبان کے حامی سمجھے جانے والے شہروں قندھار اور لشکر گاہ اور مغرب میں ہرات میں بھی لڑائی جاری ہے۔

گزشتہ رات دیر گئے طالبان نے قندھار میں قلعہ بند جیل پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک طویل محاصرے کے بعد مکمل طور پر فتح ہو گئی ہے اور سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر کے محفوظ مقام پر لے جایا گیا۔‘

اس سے قبل افغان طالبان نے بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد پر قبضہ کیا تھا۔

افغان میڈیا کے مطابق افغان آرمی چیف جنرل ولی محمد احمد زئی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ جنرل ہیبت اللہ علی زئی کا تقرر کیا گیا ہے لیکن ابھی تک افغان حکومت نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔

فیض آباد پر قبضے کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کے رکن ذبیح اللہ عتیق کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ رات گئے سکیورٹی فورسز جو کئی دنوں سے طالبان سے لڑ رہی تھیں، شدید دباؤ میں آ گئیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں