The news is by your side.

Advertisement

سوات میں بڑھتی ڈکیتیوں کے پیچھے ’سازش‘ کا انکشاف

سوات: خیبرپختون خواہ کے مالا کنڈ ڈویژن کے علاقے وادی سوات میں بڑھتی ہوئی ڈکیتی کی ورداتوں کے حوالے سے اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔

نمائندہ اے آر وائی نیوزشہزاد عالم کے مطابق سابق رکن قومی اسمبلی اور ضلع مردان کے سابق ناظم حمایت اللہ خان نے دعویٰ کیا کہ سوات میں سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے ڈکیتی کے واقعات ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈی پی او سوات میں سیاحت کو ناکام بنانے کے لئے مری کے ہوٹلوں سے رقم وصول کرچکے ہیں، ایسے کرپٹ اور نا اہل ڈی پی او کو معطل کر کے سوات میں نیا افسر تعینات کیا جائے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حمایت اللہ خان ماریار نے کہا کہ ’سوات میں سیاحوں کے ساتھ پے در پے پیش آنے والے واقعات ڈی پی او سوات دلاور بنگش کی نااہلی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ مدین میں سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس نے بے گناہ افراد کو گرفتار کیا، متاثرہ فیملی نے انہیں پہچاننے سے انکار کیا مگر بے گناہ طالب علموں کو حوالات میں بند کیا گیا اور انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ پولیس اُن سے کچھ برآمد بھی نہیں کرسکی۔

مزید پڑھیں: سوات میں ڈکیتی کی بڑھتی وارداتیں، 50 سیاح موبائل اور بھاری نقدی سے محروم

سوات پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ9اگست کو لاہور سے پہلی مرتبہ کوسٹر میں سوات آنے والے سیاحوں کو تین نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اسلحہ کے زور پر لوٹا اور ان سے پانچ لاکھ روپے نقدی، نو موبائیل اور سونے کے زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سوات پولیس نے ضلع بھر میں ناکہ بندی کی اور اسی دوران مردان سے گاڑی میں آنے والے طالب علموں ہاشم، سید قادر، بخت رحمان اور وقاص کو گرفتار کر کے ڈکیت ظاہر  کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت کے حکم پر طالب علموں کا طبی معائنہ کیا گیا جس میں تشدد بھی ثابت ہوا ہے، یہ ظلم کی انتہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں