The news is by your side.

Advertisement

’بے بسی کا یہ عالم تھا کہ موت کی دعائیں کیں‘

لاہور: مینار پاکستان میں ہراساں کرنے کے واقعے پر متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خاتون عائشہ اکرم نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اپنے شہر میں ہی محفوظ نہیں ہوں، وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا واقعہ ہوجائے گا، اب تک یقین نہیں آرہا میرے ساتھ یہ سب ہوا، بے بسی کا یہ عالم تھا کہ موت کی دعائیں کیں۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ایک کلپ ہی بنایا تھا کہ 400 سے 500 لوگوں نے مجھ پر حملہ کردیا، میرے ساتھ 10 سے 12 ساتھی تھے ان سب کو الگ کرکے مجھے قابو کیا گیا۔

مزید پڑھیں: گریٹراقبال پارک واقعہ: اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل

عائشہ اکرم نے کہا کہ مجھ پر تشدد کیا گیا، کوئی عریاں لباس بھی نہیں پہنا تھا مناسب لباس میں تھی، مجھے بار بار ہوا میں اچھالا گیا، پتہ ہی نہیں میرا قصور کیا ہے۔

متاثرہ خاتون نے کہا کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیا ہے، پنجاب پولیس بھی تعاون کررہی ہے۔

یاد رہے لاہور گریٹر اقبال پارک میں 14 اگست کے روز ویڈیو بنانے آنے والی ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کو ہجوم نے ہراساں کیا تھا، واقعے میں ملوث 400 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ، جس میں متاثرہ خاتون نے درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ ان پر تشدد کیا گیا، موبائل فون اور نقدی بھی چھین لی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے مینار پاکستان واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے خاتون سے دست درازی کرنے والوں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے مینار پاکستان میں لڑکی سےبدتمیزی کے واقعے میں تاحال کوئی ملزم گرفتار نہ ہوسکا ، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی ،سوشل میڈیاویڈیوسے شناخت کر رہے ہیں، بہت جلدملزمان تک پہنچ جائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں