The news is by your side.

Advertisement

شوگر جیسے خاموش قاتل سے بچاؤ کے چند آسان طریقے

ذیابیطس یا شوگر دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، یہ بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔

لیکن آپ غذا میں تبدیلی لاکر اس مرض سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں، غذا میں شامل چینی اور کاربو ہائیڈریٹس کو ان پانچ غذاؤں سے بدل دیں۔

دلیہ

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے دلیہ بہترین ناشتہ ہے، یہ معدے میں غذا میں موجود گلوکوز کو جذب کرنے کی رفتار سست کرکے شوگر کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں

پالک، گوبھی اور سلاد کے پتے جیسی سبزیوں میں کیلوریز اور کاربوہائیڈریٹ کافی کم مقدار میں موجود ہوتے ہیں، ان سبزیوں کو روزانہ کھانے سے ذیابیطس ہونے کا خطرہ 14 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

شکر قندی

امریکی ذیابیطس ایسوسی ایشن کے مطابق شکرقندی انسولین کی مزاحمت کو کم کرتی ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھتی ہے، اس میں زیادہ مقدار میں موجود فائبر دل کی متعدد بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

مچھلی

مچھلی میں جسم کے لیے اہم فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو کہ بلڈ شوگر کی سطح کو معمول پر رکھنے کے ساتھ جسمانی سوجن کو کم کرنے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم کرنے کے لیے بھی اہم ہیں، ذیابیطس کے مریض کو ہفتے میں دو مرتبہ مچھلی کا استعمال ضرور کرنا چاہیے کیونکہ یہ گردوں کی بیماری کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

بادام

کھانے کے بعد بادام استعمال کرنے سے جسم میں گلوکوز اور انسولین کی سطح قابو میں رہتی ہے، بادام جسمانی وزن کو معمول پر رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ یہ کھانے کے بعد آپ پیٹ بھرا ہوا محسوس کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں