The news is by your side.

Advertisement

افغانستان سے انخلا میں‌ جلد بازی، برطانوی سفارت خانے کا عملہ ملکہ کی تصویر چھوڑ‌ گیا

کابل: برطانوی سفارت خانے کا عملہ افغانستان سے انخلا میں جلدی کے چکر میں ملکہ برطانیہ کی تصویر سفارت خانے میں ہی چھوڑ کر چلا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی حکام نے جلد بازی میں کابل میں موجود برطانیہ کے سفارت خانے کو بند اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو بھی مکمل طور پر بند کردیا۔

برطانوی عملہ جلد بازی میں ملکہ برطانیہ کا پوٹریٹ اور اہم دستاویزات سفارت خانے میں ہی بھول گیا۔

 سفارت خانہ خالی ہونے کے بعد طالبان نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا اور انہوں نے اندر موجود دستاویزات کی تصدیق بھی کی ہے۔

افغان طالبان نے برطانیہ کو یقین دہانی کرائی کہ ملکہ کی تصویر اور دیگر دستاویزات کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، کسی بھی چیز کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ طالبان کا کہنا ہے کہ جب تک برطانیہ ہماری حکومت کو تسلیم  کرکے اپنےسفارت کار واپس نہیں بھیج دیتا تب تک ہرچیز جوں کی توں رکھی جائےگی اور ہم ملکہ کی تصویر کا بھی خیال رکھیں گے۔

دوسری جانب برطانوی افواج کے سربراہ جنرل نک کارٹر نےکہاکہ میرا خیال ہے انخلا کےلیے ہم  نےایک غیر معمولی کام کیا ہےلیکن ہم  ہر ایک کو وہاں سے باہر نہیں نکال سکتے اور یہ انتہائی افسوسناک ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے لیے ایسا کوئی دن نہیں گزرتا  کہ میری آنکھ میں آنسو نہ آئے ہوں، ذاتی طور پر مجھے اُن افغانیوں کی طرف سے سو سے زیادہ مختلف پیغامات موصول ہوئے، جنہیں میں طویل عرصے سے  جانتا ہوں اور ان میں زیادہ ترمیرے دوست ہیں، جو افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ اس طرح کے لوگوں کا خیرمقدم کرتا رہے گا، ہم بالکل واضح ہیں مجھے لگتا ہے کہ ہماری حکومت نے اسے بالکل واضح کر دیا ہے، وہ ابھی باہر نکلیں   یا انخلاکے دوسرے مرحلے  میں ، وہ جب بھی آئیں گے انکا خیر مقدم کیا جائے گا‘۔

یاد رہے کہ افغانستان سے  شہریوں کے انخلا کی مہلت ختم ہونے میں صرف دو دن باقی ہیں، فرانس، جرمنی  او اسپین کے بعد برطانیہ نے بھی انخلا کا آپریشن آج ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارےسے بات کرتے ہوئے برطانوی افواج کے سربراہ جنرل نک کارٹر نےکہا کہ اب اس آپریشن کی تکمیل کی جانب پہنچ رہےہیں، شہریوں کے انخلا کاعمل آج مکمل ہوجائےگا، اس کے بعد فوجیوں کو واپس لے جانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

برطانوی افواج کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت میں بہت مشکل فیصلے کرنے پڑے ہیں، ہم ہر کسی کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں