The news is by your side.

Advertisement

جھوٹ بولنے سے دماغ اور شخصیت پر کیا اثر ہوتا ہے؟

دنیا کے تمام مذاہب میں جھوٹ بولنے کو برا سمجھا جاتا ہے اور دین اسلام میں اسے گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتے ہیں، جھوٹ بولنے والی کی اپنی شخصیات اور کردار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں آئے روز مختلف موضوعات پر تحقیقات کی جاتی ہیں اس حوالے سے گزشتہ دنوں مغربی ممالک میں جھوٹ کے حوالے سے دماغی ماہرین نے مختلف افراد پر تجربات کئے اور ان تجربات کی روشنی میں اپنے نتائج اخذ کئے۔

ان اخز کئے نتائج کے مطابق جو شخص لگاتار جھوٹ بولتا اس کی وجہ سے اس کی شخصیت پر منفی اثرات تو پڑتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کا دماغ بھی بے حس ہوتا چلا جاتا ہے.

جھوٹ بولنے کی وجہ سے رفتہ رفتہ اس کو دوسروں کے جذبات واحساسات کی کوئی پرواہ نہیں رہتی اور اس کا دماغ ہر وقت کسی کو بھی بڑی آسانی کے ساتھ بڑے سے بڑے دھوکا دینے کے لئے تیار رہتا ہے اور جھوٹ اس کے لئے ایک نارمل سی بات رہ جاتی ہے۔

حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی میں سوائے اپنے اور کچھ نظر نہیں آتا اور اسکے قریبی رشتہ دار مثلاً اس کی بیوی، شوہر، بچے، ماں، باپ ، بہن ، بھائی کی بھی اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رہتی۔

تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ایسے شخص وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لئے بھی پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں