The news is by your side.

Advertisement

وطن کی حرمت کی ہر صورت میں حفاظت کریں گے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ وطن کی حرمت کی ہر صورت میں حفاظت کریں گے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہماری امن کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستانی قوم آج بھی اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے، امید رکھتے ہیں کہ عالمی برادری افغانستان کی ترقی کے لیے کردار ادا کرے گی، توقع کرتے ہیں افغانستان میں ایک مستحکم حکومت قائم ہو۔

انہوں نے کہا کہ توقع کرتے ہیں کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا اور افغانستان میں تمام فریقین پر مشتمل مستحکم حکومت ہوگی، توقع کرتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

آرمی چیف نے کہا کہ قیام پاکستان سے آج تک مستحکم پاکستان تک کا سفر جذبوں اور قربانیوں سے مزین ہے، پاک افواج ملک کا دفاع ہر طریقے سے کرنا بھرپور جانتی ہے، شہدا کے لواحقین اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، شہدا کے لواحقین کی قربانیاں نہ کبھی فراموں ہوں گی نہ کبھی رائیگاں جائیں گی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مادر وطن کے لیے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، ہم نے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، اندرونی اور بیرونی سطح پر بھرپور مقابلہ کیا، ہماری مسلح افواج تیار ہے دشمن اگر آزمانا چاہتا ہے تو ہمیں ہر لمحہ تیار پائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دشمن اب غیرروایتی ہتھکنڈوں، ڈس انفارمیشن کے ذریعے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہمیں اندرونی خلفشار پھیلانے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا، ہائبرڈ وار کے منفی عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

کشمیر سے متعلق آرمی چیف نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں مسئلہ کشمیر کلیدی حیثیت رکھتا ہے، کشمیری عوام کی جذبہ حریت کو سلام پیش کرتے ہیں، ہر سطح پر کشمیری بھائیوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، سید علی گیلانی کی طویل جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔

پاک فوج کے سپہ سالار نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو قائد اعظم کی سوچ کے مطابق اعتدال پسند اور فلاحی ریاست بنانا ہے، کسی بھی گروہ کو ریاست کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، موجودہ حالات مسلح افواج اور عوام کے رشتے کو اور بھی مضبوط کرنے کی متقاضی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں